فیصل آباد (آن لائن)جمعیت علماء اسلام کے بعد مسلم لیگ ن میں اختلافات،راناثناء اللہ خان کے خلاف ایک بار پھرچوہدری شیر علی بھرپور متحرک‘ ،دونوں گروپوں کے مقامی رہنماؤں کے ایک دوسرے الزامات سامنے آگئے، چوہدری شیر علی نے ناصرف خود اڑھائی سال پراسرار خاموشی اختیار کیے رکھی بلکہ اقتدار میں وزارت کے
مزے لوٹنے والا ان کا بیٹا مشکل وقت میں بیرون ملک مزے لوٹ رہا ہے، چوہدری شیر علی پارٹی کوکمزور کرنے سازش کررہے ہیں راناثناء اللہ کا گروپ کا الزام،پارٹی قیادت نے سخت نوٹس لے لیا بیانات پر ناراضگی کا اظہار آن لائن کے مطابق بابائے سیاست چوہدری شیر علی اڑھائی سال پراسرار خاموشی کے بعد ایک بار بھرپور متحرک ہوگئے ہیں جس پر سیاسی مخالفین”خاموش“جبکہ ان کی مرکزی قیادت پریشان مقامی اپنی جماعت کے بعض افراد کی نیندیں حرام ہو گئیں مقامی جماعت کے رہنماؤں نے چوہدری شیرعلی پر ذاتی حملے کرنا شروع کر دیئے۔ جس کا پارٹی قیادت نے سخت نوٹس لے لیا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پارٹی قیادت نے ایسے بیانات پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔مخالفانہ بیان بازی کرنے والوں کو شوکاز نوٹس جاری ہونے کا بھی امکان ہے۔ دوسری جانب چوہدری شیرعلی کی جانب سے اپنے ڈیرے پر منعقدہ کامیاب ورکرز کنونشن کی بازگشت دور دور تک سنائی دی جا رہی ہے۔ چونکہ چوہدری شیرعلی بابائے سیاست کے ساتھ ساتھ بابائے بلدیات بھی ہیں اس وجہ سے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ چوہدری شیرعلی مسلم لیگ ن کو کمزور کرنے کیلئے رانا ثناء اللہ کے خلاف بیان بازی کر رہی ہیں ان کے بیانات کی وجہ سے پہلے بھی جماعت نقصان ہوا ہے اور اگر پارٹی مضبوط کرنا تھا اپنے بیٹے عابدشیر علی
کو واپس لائے اور مسلم لیگ ن کی قیادت کے ساتھ کھڑے ہوں جبکہ دوسری جانب سٹی جنرل سیکرٹری میاں ضیاء الرحمن صوبائی صدر راناثناء خان کے قریب ساتھ ہیں انہوں نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن پنجاب کی قیادت نے کارکنوں کو نوازشریف کے بیانیہ ووٹ کو عزت دو کی خاطر جبر کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہنا سکھایا۔ اور
حکومتی جبر اور جھوٹے مقدمات کا ثابت قدمی سے سامنا کیا اور گرفتاری کے بعد تمام تر جبر کے باوجود بھی انکے پاے استقلال میں کوئی لغزش نہیں آئی بلکہ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ میں اگر پہلے میاں نوازشریف کے ساتھ سو فیصد تھا تو اب ہزار فیصد ہوں رانا ثناء اللہ خاں کی صدارت کے باعث ہی آج کارکن ریاستی جبر کے
باوجود پارٹی کے شانہ بشانہ ہیں جبکہ چوہدری شیر علی نے ناصرف خود اڑھائی سال پراسرار خاموشی اختیار کیے رکھی بلکہ اقتدار میں وزارت کے مزے لوٹنے والا ان کا بیٹا اب مشکل وقت میں بیرون ملک مزے لوٹ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ چوہدری شیر علی کی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد جس میں وہ خود امام اور ان کا ایک ہی مقتدی میاں
طاہر جمیل ہے جلسوں میں تین تین سو بسیں لے جانے کے جھوٹے دعوے کرنے والوں نے تیرہ دسمبر لاہور کے جلسہ عام میں ایک بس لے جانا تو درکنار خود بھی شرکت نہیں کی جسکے تصویری ثبوت موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ چوہدری شیر علی کو اب تسلیم کرلینا چاہیے کہ فیصل آباد میں نون لیگ کے ورکرز کو حقیقی اور باعزت مقام دلانے میں اصل کردار صرف رانا ثناء اللہ کا ہیاور اسی بناء پر پارٹی کے تمام ارکان اسمبلی، عہدیداران اور کارکن انکے شانہ بشانہ ہیں اور آئندہ الیکشن تنظیمی کارکردگی کا ثبوت ہونگے۔



















































