منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت نے نیب قوانین میں تبدیلی کس چیز کی پیشکش کی ہے، سلیم مانڈوی والا کا دعویٰ  

datetime 22  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی) ڈپٹی چیئر مین سینٹ سلیم مانڈی والا نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے نیب قوانین میں تبدیلی پر گفتگو کی پیشکش کی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سینیٹ اجلاس کے اختتام پر اعلیٰ پارلیمانی دفتر کے حامل ایک حکومتی رکن نے مسٹر مانڈوی والا سے رجوع کیا تھا اور انہیں آگاہ کیا تھا کہ حکمران جماعت تحریک انصاف احتساب کے ادارے کے

کچھ اختیارات کو کم کرنے کیلئے نیب قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے راضی ہے خصوصاً ان لوگوں کے لیے جو کاروباری برادری اور عام لوگوں سے وابستہ ہیں۔جب سلیم مانڈوی والا سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ ان سے اس معاملے پر حکومت کی طرف سے رابطہ کیا گیا ہے اور کہا تھا کہ (حکومت کی طرف سے) ایک پیش کش آئی ہے جس پر ہم عمل کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ حتمی حل ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ وہ سیاستدانوں، بیوروکریٹس یا سرکاری عہدہ داروں کے لیے نہیں بلکہ ایک عام آدمی کے لئے لڑ رہے ہیں۔سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ حکومت پر دباؤ ہے کیونکہ ملک بھر سے تاجر اور کاروباری برادری نیب کی زیادتیوں پر رو رہی ہے، انہوں نے کہا کہ نہ تو حکومت مناسب طریقے سے کام کر رہی ہے اور نہ ہی نجی شعبہ نیب کے اقدامات کی وجہ سے کارکردگی دکھانے کے قابل ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نیب قوانین میں بھی تبدیلی لانے پر راضی ہے کیونکہ اس نے گزشتہ سال نیب ترمیمی آرڈیننس پیش کیا تھا جو بعد میں ختم ہو گیا۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز اور پارلیمانی امور سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر بابر اعوان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے سے انکار کردیا کہ حکومت نے اس معاملے پر حزب اختلاف سے کوئی باضابطہ رابطہ کیا ہے۔بابر اعوان نے الزام لگایا کہ حزب اختلاف نے سینیٹ میں زیر بحث لا کر نیب پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے کہا کہ دو ہفتوں سے زیادہ اجلاس کے دوران حزب اختلاف نے نیب، پولیس یا عدلیہ میں اصلاحات کے معاملے پر کوئی ٹھوس تجویز پیش نہیں کی اور انہوں نے اس موقع کو محض سیاسی تقریریں کرنے کے لیے استعمال کیا۔بابر اعوان نے کہا کہ حکومت اپنے بیان کردہ موقف کے ساتھ کھڑی ہے کہ پارلیمنٹ ہی ایسی گفتگو کے لیے واحد فورم ہے اور نیب کے کام میں اصلاحات لانے کے لیے تیار ہیں لیکن حزب اختلاف کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات بند نہیں کیے جائیں گے اور نیب کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ وہ اس معاملے پر سنجیدہ ہونے کی صورت میں  قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاسوں میں تجاویز پیش کریں یا پارلیمنٹ میں قانون سازی کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…