منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

جے یو آئی نے ہی مولانا فضل الرحمان کیخلاف الیکشن کمیشن میں بڑا قدم اٹھا لیا

datetime 22  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو جے یو آئی کا نام استعمال کرنے سے روکنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان کیخلاف الیکشن کمیشن میں درخواست جے یو آئی پاکستان کی مجلس شوری کے رکن اور سابق رکن قومی اسمبلی مولانا

شجاع الملک نے دائر کی۔درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی جماعت جے یو آئی ف کے نام سے رجسٹرڈ تھی۔جے یو آئی (ف)کو الیکشن کمیشن نے الگ انتخابی نشان الاٹ کیا تھا، جبکہ مولانا جمیعت علمائے اسلام پاکستان کا نام استعمال کررہے ہیں۔ درخواست گزار نے مقف اپنایا کہ اس سے قبل 16 مارچ 2020 کو ای سی پی نے بغیر تحقیق فیصلہ سناتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کے حق میں فیصلہ سنا دیا تھا۔اس موقع پر ہمارا موقفسنے بغیرفضل الرحمان کی پارٹی کو جے یو آئی کا نام استعمال کرنے دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہالیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں قانونی نقاط مدنظر نہیں رکھے تھے۔درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن تمام فریقین کو سن کر تعین کرے جے یو آئی پاکستان کونسی جماعت ہے۔ اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی جماعت الگ ہے تو ان کو جے یو آئی کا نام استعمال کرنے سے روکا جائے۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی مولانا فضل الرحمان کی پارٹی کیخلاف مولانا محمد شیرانی نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے پارٹی کا غلط نام استعمال کیا ہے۔ یاد رہے کہ آئے دن جے یو آئی کے رہنماں کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کے خلاف بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ گزشتہ روز جے یو آئی نظریاتی کے رہنما مولانا عبدالقادر لونی نے کہا تھا کہ مولانا فضل

الرحمان وفاق المدارس کو متنازع بنا رہے ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبدالقادر لونی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان صاحب کے اثاثے سامنے چکے ہیں۔ نیب ان کیخلاف تحقیقات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فضل الرحمان وفاق المدارس کو متنازع بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جمیعت علمائے اسلام کے تمام سابق وزرا کیخلاف نیب تحقیقات کرے۔ پی ڈی ایم ملک میں انتشار پھیلا رہی ہے۔ بلوچستان میں دہشتگردی میں بھارت ملوث ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…