منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

بجلی ایک روپے 95 پیسے مہنگی، وزیرتوانائی نے سارا ملبہ ن لیگ پرڈال دیا

datetime 21  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد (آن لائن)وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن)کی حکومت بجلی سے متعلق لازمی ادائیگی 227 ارب روپے کی بارودی سرنگ ہمارے لئے چھوڑ کر گئی اور اب بجلی کی قیمت ایک روپے 95 پیسے فی یونٹ بڑھانے جارہے ہیں۔اسلام آباد میں وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر اور معاون خصوصی تابش

گوہر کے ہمراہ پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)نے بجلی کی مد میں لازمی ادائیگی کا قرضہ ہمارے لیے چھوڑا جو 227 ارب روپے تھا۔عمر ایوب نے بتایا کہ بجلی استعمال کی جائے یا نہ کی جائے بجلی کے کارخانوں کو 2023 تک ایک ہزار 455 ارب روپے ادائیگی کرنی پڑے گی، یہ وہ بارودی سرنگ ہے جو مسلم لیگ (ن)نے قصدا، بدنیتی کے ساتھ ایسے معاہدے کیے۔اس دوران وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے وضاحت دی کہ مسلم لیگ (ن)کی حکومت نے جو معاہدے کیے اس کے نتیجے میں لازمی ادائیگی کی رقم کو پورا کرنے کے لیے 9 روپے فی یونٹ اضافہ کرنا تھا، سابقہ حکومت کے انہی فیصلوں کی وجہ سے گردشی قرضوں میں اضافہ ہورہا ہے۔عمر ایوب نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صرف توانائی کے شعبے سے عوام کے تحفظ کے لیے گزشتہ سال 473 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن)نے غلط کارخانے لگائے جس میں درآمدی فیول استعمال ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ایک سال کے اعداد و شمار لیں تو 2 روپے 18 پیسے اضافہ ہونا چاہیے تھا جبکہ ہم نے بجلی کے فی یونٹ میں ایک روپے 95 پیسے کا اضافہ کرنے جارہے ہیں۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد

عمر نے کہا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں 208 ارب روپے کے ترقیاتی کام ہوئے ہیں۔انہوں نے دعوی کیا کہ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ خوش آئند ہے۔اس ضمن میں انہوں نے مزید کہا کہ دسمبر 2020 میں دسمبر 2019 کی نسبت بر آمدات میں اضافہ ہوا جو گزشتہ 12 سال میں کسی ایک ماہ میں اتنا اضافہ دیکھنے میں

آیا۔اسد عمر نے کہا کہ نومبر میں مجموعی طور پر بڑی صنعتوں میں دہائیوں کے بعد 15 فیصد گروتھ ریکارڈ کی گئی، ان کا کہنا تھا کہ بڑی 15 میں سے 10 صنعتوں میں تیزی نظر آئی۔انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے پاکستان ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت پہلے 6 ماہ میں 208 ارب روپے کی ترقیاتی کام کروائے گئے جو پی ایس ڈی

پی کے سالانہ بجٹ کا 32 فیصد بنتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ایکسپورٹس میں ساڑھے اٹھارہ فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں وفاق کے تحت جاری ترقیاتی پروگرام کی نگرانی کا نظام انتہائی فعال اور مثر ہے۔اسد عمر نے کہا کہ کرنٹ اکانٹ خسارہ سرپلس نظر آرہا ہے اور ایسا ایک دہائی کے بعد دیکھنے میں نظر آیا

ہے۔وفاقی وزیر نے یاد دہانی کرائی کہ تحریک انصاف کی حکومت آنے سے تین ماہ پہلے ماہانہ خسارہ اوسطا 2 ارب ڈالر سے زیادہ تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اعلان کیے گئے انڈسٹریل ٹیرف کے نتیجے میں مثبت اعشاریے سامنے آرہے ہیں، بجلی کے استعمال میں 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔اسد عمر نے کہا کہ پچھلی حکومت سب سے بڑا چیلنج بجلی کا نظام ہمارے لیے چھوڑ کر گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…