منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

کڈنی ہلز پلاٹس الاٹمنٹ کیس، نیب نے سلیم مانڈوی والا کو ملزم نامزد کر دیا

datetime 19  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی احتساب بیورو (نیب) نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کو کڈنی ہلز پلاٹس الاٹمنٹ کیس میں باقاعدہ ملزم نامزد کر دیا۔نیب کی جانب سے دائر ریفرنس میں سلیم مانڈوی والا پر سرکاری پلاٹس اومنی گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبدالغنی مجید کو فروخت کرنے میں سابق چیئرمین پاکستان انٹرنیشنل

ایئرلائنز (پی آئی اے) اعجاز ہارون کی سہولت کاری کا الزام عائد کیا گیا۔نیب ریفرنس میں سلیم مانڈوی والا کے ساتھ ان کے بھائی ندیم مانڈوی والا، اعجاز ہارون، عبدالغنی مجید اور طارق محمود بھی ملزم نامزد کیے گئے ہیں۔اس حوالے سے نیب رپفرنس میں کہا گیا کہ اعجاز ہارون کو الاٹمنٹس کے بدلے بھاری رقوم جعلی اکاؤنٹس سے ملی تھیں۔ریفرنس کے مطابق اعجاز ہارون نے کڈنی ہلز فلک نْما میں پلاٹس کی بیک ڈیٹ فائلیں تیار کیں جبکہ سلیم مانڈوی والا نے پلاٹس عبدالغنی مجید کو فروخت کرنے میں اعجاز ہارون کی معاونت کی۔نیب ریفرنس میں کہا گیا کہ حصے میں ملی رقم سے سلیم مانڈوی والا نے پہلے ایک بے نامی اکاؤنٹ کے نام پر پلاٹ خریدا اور پھر وہ پلاٹ بیچ کر دوسرے فرنٹ مین کے نام پر بے نامی شئیرز خریدے۔نیب کی جانب سے دائر ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا کہ کڈنی ہلز پلاٹس کی فروخت کے بدلے میں رقم آئی ہی جعلی اکاؤنٹس سے تھی۔ریفرنس میں کہا گیا کہ سلیم مانڈوی والا اور اعجاز ہارون کو 14 کروڑ روپے جعلی اکاؤنٹس سے وصول ہوئے تھے۔نیب کے مطابق سلیم مانڈوی والا اور ندیم مانڈوی والا نے اسی رقم سے منگلا ویو کمپنی کے شیئرز خریدے جبکہ شیئرز بے نامی طارق محمود کے نام پر خریدے گئے۔سلیم مانڈوی والا پر اوورسیز کوآپریٹنگ ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ

میں ملوث ہونے کا الزام ہے ساتھ ہی ان پر پلاٹس کیلئے جعلی اکاؤنٹس سے ادائیگی کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کا کہنا ہے کہ مجھے احتساب عدالت کا کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا، اگر نوٹس موصول ہوا تو عدالت کے سامنے پیش ہوں گا،نیب کے من گھڑت، جھوٹے اور بے بنیاد الزامات

کا جواب عدالت میں دوں گا،عدالت سے انصاف کی توقع رکھتے ہیں،جھوٹے کیسز سے سرخرو ہوں گے۔ایک بیان میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ مجھے احتساب عدالت کا کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا، اگر احتساب عدالت کا نوٹس موصول ہوا تو عدالت کے سامنے پیش ہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ احتساب عدالت کے ہر نوٹس

اور قانونی نکات کا قانون کے مطابق جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ احتساب عدالت کے ریفرنس یا نوٹس کے حوالے سے قانونی ٹیم سے رابطے میں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ عدالتوں کا ہمیشہ احترام کیا ہے،نیب کے من گھڑت، جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کا جواب عدالت میں دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت سے انصاف کی توقع رکھتے ہیں اور ہم جھوٹے کیسز سے سرخرو ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…