منگل‬‮ ، 28 جولائی‬‮ 2026 

کڈنی ہلز پلاٹس الاٹمنٹ کیس، نیب نے سلیم مانڈوی والا کو ملزم نامزد کر دیا

datetime 19  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی احتساب بیورو (نیب) نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کو کڈنی ہلز پلاٹس الاٹمنٹ کیس میں باقاعدہ ملزم نامزد کر دیا۔نیب کی جانب سے دائر ریفرنس میں سلیم مانڈوی والا پر سرکاری پلاٹس اومنی گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبدالغنی مجید کو فروخت کرنے میں سابق چیئرمین پاکستان انٹرنیشنل

ایئرلائنز (پی آئی اے) اعجاز ہارون کی سہولت کاری کا الزام عائد کیا گیا۔نیب ریفرنس میں سلیم مانڈوی والا کے ساتھ ان کے بھائی ندیم مانڈوی والا، اعجاز ہارون، عبدالغنی مجید اور طارق محمود بھی ملزم نامزد کیے گئے ہیں۔اس حوالے سے نیب رپفرنس میں کہا گیا کہ اعجاز ہارون کو الاٹمنٹس کے بدلے بھاری رقوم جعلی اکاؤنٹس سے ملی تھیں۔ریفرنس کے مطابق اعجاز ہارون نے کڈنی ہلز فلک نْما میں پلاٹس کی بیک ڈیٹ فائلیں تیار کیں جبکہ سلیم مانڈوی والا نے پلاٹس عبدالغنی مجید کو فروخت کرنے میں اعجاز ہارون کی معاونت کی۔نیب ریفرنس میں کہا گیا کہ حصے میں ملی رقم سے سلیم مانڈوی والا نے پہلے ایک بے نامی اکاؤنٹ کے نام پر پلاٹ خریدا اور پھر وہ پلاٹ بیچ کر دوسرے فرنٹ مین کے نام پر بے نامی شئیرز خریدے۔نیب کی جانب سے دائر ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا کہ کڈنی ہلز پلاٹس کی فروخت کے بدلے میں رقم آئی ہی جعلی اکاؤنٹس سے تھی۔ریفرنس میں کہا گیا کہ سلیم مانڈوی والا اور اعجاز ہارون کو 14 کروڑ روپے جعلی اکاؤنٹس سے وصول ہوئے تھے۔نیب کے مطابق سلیم مانڈوی والا اور ندیم مانڈوی والا نے اسی رقم سے منگلا ویو کمپنی کے شیئرز خریدے جبکہ شیئرز بے نامی طارق محمود کے نام پر خریدے گئے۔سلیم مانڈوی والا پر اوورسیز کوآپریٹنگ ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ

میں ملوث ہونے کا الزام ہے ساتھ ہی ان پر پلاٹس کیلئے جعلی اکاؤنٹس سے ادائیگی کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کا کہنا ہے کہ مجھے احتساب عدالت کا کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا، اگر نوٹس موصول ہوا تو عدالت کے سامنے پیش ہوں گا،نیب کے من گھڑت، جھوٹے اور بے بنیاد الزامات

کا جواب عدالت میں دوں گا،عدالت سے انصاف کی توقع رکھتے ہیں،جھوٹے کیسز سے سرخرو ہوں گے۔ایک بیان میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ مجھے احتساب عدالت کا کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا، اگر احتساب عدالت کا نوٹس موصول ہوا تو عدالت کے سامنے پیش ہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ احتساب عدالت کے ہر نوٹس

اور قانونی نکات کا قانون کے مطابق جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ احتساب عدالت کے ریفرنس یا نوٹس کے حوالے سے قانونی ٹیم سے رابطے میں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ عدالتوں کا ہمیشہ احترام کیا ہے،نیب کے من گھڑت، جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کا جواب عدالت میں دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت سے انصاف کی توقع رکھتے ہیں اور ہم جھوٹے کیسز سے سرخرو ہوں گے۔



کالم



ہمارا امیرالعظیم


امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…