جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا ویکسین میں حرام اجزا کی آمیزش کا معاملہ اہم فتویٰ جاری کر دیا گیا

datetime 23  دسمبر‬‮  2020 |

ابوظہبی(پی این پی) متحدہ عرب امارات کے فتویٰ کونسل نے شیخ عبد اللہ بن بیہہ کی سربراہی میں ایک فتویٰ جاری کیا ہے جس میں انسانی جسم کے تحفظ اور دیگر متعلقہ اسلامی احکام کے بارے میں اسلامی شریعت کے مقاصد کی تعمیل میں انسداد کورونا ویکسین استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق یہ فتویٰ کرونا ویکسین کی حلال حیثیت کے بارے میں مسلمانوں میں بڑھتے ہوئے خدشات اور ملائیشیا کے وزیر مذہبی امور کے اسی موضوع پر متحدہ عرب امارات کے فتویٰ کونسل کی مشاورتی رائے کی درخواست کے کے جواب میں دیا گیا ہے۔ فتویٰ کونسل نے وضاحت کی ہے کہ اسلامی اصولوں کے مطابق کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کی درجہ بندی حفاظتی دوائیوں کے تحت کی جاتی ہے خاص طور پر وبائی امراض کے اوقات میں جب صحت مند افراد کے بھی اس بیماری میں مبتلا ہونے کا زیادہ خطرہ ہو اور اس وباء کا پورے معاشرے میں پھیلنے کا خطرہ ہو۔ فتویٰ کونسل نے مزید کہا ہے کہ اگرچہ اس ویکسین میں ایسے غیر حلال اجزاء شامل ہیں جو اسلام میں مانع ہیں تاہم اسلامی قوانین کے مطابق کوئی متبادل نہ ہونے کی صورت میں ایسی مصنوعات کے استعمال کی اجازت ہے۔ کونسل نے اس بیماری کی انتہائی متعدی نوعیت کو اس کے استعمال کا جواز بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس وباء کے سنگین

نتائج سے دوچار ہونے کے خطرے سے بچنے کیلئے اس کا استعمال جائز ہے۔ کونسل نے کہا کہ متعلقہ طبی اور دیگر مجاز حکام ویکسین کے مضر اثرات کا اندازہ لگانے کے مجاز ہیں۔ کونسل نے عوام سے ویکسیئن لگانے کی مہم کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے متعلقہ حکام سے تعاون کرنے اور احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کرنے کی اپیل کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…