پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد میں ریاست نام کی چیز سرے سے موجود ہی نہیں ،جسٹس اطہر من اللہ کے ریمارکس

datetime 14  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت نے اسلام آباد میں نئے سیکٹرز کی تعمیر سے بے گھر ہونے والے شہریوں کی درخواستوں پر سماعت کی ۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حکومت اور سی ڈی اے پر ایک بار پھر شدید برہمی کا اظہار

کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ۔ریاست جب کرپٹ ہو جائے تو اسے بلیک میل بھی کیا جاتا ہے۔ ورنہ کس کی جرات ہے کہ ریاست کو بلیک میل کرے بااثر لوگوں نے معاوضے بھی لے لیے عام شہریوں کو کیوں نہ معاوضہ ملا نہ متبادل پلاٹس نیب سے پلی بارگین کرنے والے کرپٹ بھی بعد میں سرکاری پلاٹس لے جاتے رہیبس اگر کسی کومعاوضہ نہیں ملا تو وہ عام شہریوں کو جن کے آبا اجداد کی قبریں اسی شہر میں تھی کچھ عرصے سے ہمیں پتہ چلا کہ اسلام آباد میں تو ریاست نام کی چیز سرے سے موجود ہی نہیں ہیاس شہر کے منتخب نمائندوں کو شامل کر کے کمیشن بنایا وہ بھی مسائل حل نہیں کر سکے ۔سی ڈی اے صرف ایف سکس اور ایلیٹ کلاس کی خدمت میں لگی ہے ۔باقی اسلام آباد کا حال جا کر دیکھیں ایک پارلیمنٹ، دو اعلیٰ عدالتیں اس شہر میں ہیں پھر قانون کا یہ حال کیوں؟مزدور سب سے زیادہ بے گھر تھا اس کو پلاٹس کیوں نہ ملے؟ جس پر ہاؤسنگ فاونڈیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نیا پاکستان ہاوسنگ اسکیم میں اب گھر دیئے جا رہے ہیں عدالت نے اسلام آباد کے سیکٹر ایف 14، اور ایف 15 کے متاثرین کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…