اتوار‬‮ ، 25 جنوری‬‮ 2026 

حویلیاں طیارہ حادثہ ایک انجن بند اور دوسرے کا بلیڈ ٹوٹا ہوا تھا تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ میں چشم کشا انکشافات

datetime 7  دسمبر‬‮  2020 |

راولپنڈی(آن لائن)حویلیاں کے قریب پی آئی اے گزشتہ چار سال قبل تباہ ہونے والے طیارے کی تحقیقاتی ادارے نے طیارے کے ایک انجن کا بند ہونا اور دوسرے انجن کا بلیڈ ٹوٹا ہو نا اپنی رپورٹ میں قرار دے دیا ہے۔ جبکہ اس طیارے میں معروف نعت خواں و تبلیغی جماعت کی

اہم شخصیت جنید جمشید اور انکی اہلیہ ڈپٹی کمشنر چترال اسامہ وڑائچ سمیت 48قیمتی جانیں حادثہ کی نذر ہوئیں ان میں تین غیر ملکی بھی شامل تھے چار سال بعد ہوائی حادثات کے تحقیقاتی ادارے ائیر کرافٹ ایکسیڈنٹ انوسٹی گیشن بورڈ نے اپنی رپورٹ میں طیارے کے ایک انجن کا بند ہونا اور دوسرے انجن کا بلیڈ ٹوٹا ہو نا قرار دیاہے جبکہ سات دسمبر 2016کو پی آ ئی اے کے اے ٹی آر 42 طیارے کی پرواز پی کے 661 نے تین بجکر 30منٹ پرگلگت سے اسلام آ باد کے لئے اڑان بھری توکسی کوخبر نہ تھی کہ یہ انکی زندگی کی آ خری پرواز ہوگی طیارے میں معروف نعت خواں و تبلیغی جماعت کی اہم شخصیت جنید جمشید اور انکی اہلیہ ڈپٹی کمشنر چترال اسامہ وڑائچ تین غیر ملکی سیاحوں اور عملہ کے پانچ افراد سینئر پائلٹ صالح جنجوعہ معاون پائلٹ احمد جنجوعہ ٹرینی پائلٹ علی اکرم فضائی میزبان صدف اور آصمہ سمیت مجموعی طور پر 48افراد موجود تھے اسلام آ باد سے پانچ منٹ کی پرواز کی دوری سے حویلیاں کے

پہاڑی سلسلہ پر دوران پروازکنٹرول ٹاور پر طیارے سے آ خری بار چار بجکرچالیس منٹ پرانجن میں خرابی اور اسکے ساتھ مے ڈے مے ڈے کی آ واز گونجی اور پھر رابطہ منقطع ہوگیا پپلاں کی پہاڑیوں میں طیارہ گر تباہ ہو چکا تھااور طیارہ حادثے کے فوری بعد مقامی لوگوں نے

امدادکاروائی میں حصہ لیا جبکہ پاک فوج اور ریسکیوکا کردار بھی ھرپوررہا ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعہ نعشوں کی شناخت کے بعد انھیں ورثا کے حوالے کردیا گیا جنید جمشید اور انکی اہلیہ کی میتیں پاک فضائیہ کے سی 130سے کراچی روانہ کی گئیں چار سال بعد ائیر کرافٹ ایکسیڈنٹ

انوسٹی گیشن بورڈ نے اپنی رپورٹ میں طیارے کے ایک انجن کا بند ہونا اور دوسرے انجن کا بلیڈ ٹوٹا ہو نا قرار دیارپوررٹ میں کہا گیا کہ اے ٹی آر طیارے کی پرواز کے دس ہزار گھنٹے مکمل ہونے کے باوجود اوورہال نہیں کیا گیا تھا رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے شبہ ظاہر کیا کہ پاور

ٹربائن اسٹیج ون بلیڈ اور اوایف جی پن طیارہ حادثے سے قبل پشاور سے چترال آ نے کے دوران ہی ٹوٹ چکے تھے مگر پھر طیارے کو اگلی پرواز کے لئے روانہ کردیا گیا دوران پرواز خرابی شروع ہو ئی اور یہ خرابی تھی انجن آ ئل میں ایندھن کی آ لودگی کا شامل ہوناجس نے ٹوٹے

ہوئے او ایس جی پن اور پاورٹربائن اسٹیج ون بلیڈ کے ساتھ ملکر پروپیلر کی رفتار کم کردی جس کے باعث پروپیلر الیکٹرونک کنٹرول میں خرابی پیدا ہوئی تھی1981کی دھائی سے دنیا کے مختلف ممالک میں استعمال ہونے والے اے ٹی آ ر طیاروں کے حادثات میں ابتک سینکروں افراد کی جانیں جا چکی جبکہ پاکستان میں بھی فضائی حادثے کے باوجود اب بھی سات اے ٹی آ ر طیارے قومی فضائی بیڑے میں شامل ہیں جن کا متبادل انتظامیہ کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…