جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کو مزید علاقے چھن جانے کا خوف ۔۔۔  خصوصی کمانڈوز کا دستہ چین کیساتھ لگنے والی سرحدوں پر تعینات

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

سرینگر(این این آئی)بھارت نے غیر قانونی طورپر اپنے زیر قبضہ جموںوکشمیرکے لداخ خطے میںچین کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران پینگ گانگ جھیل پر ’’میرین کمانڈوز ‘‘ تعینات کئے ہیں اور اْنہیں جدید سازو سامان سے لیس کیا جارہا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج کے خصوصی کمانڈوز کو بھی چین کیساتھ لگنے والی سرحدوں پر تعینات کیا گیا ہے۔

لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پربھارتی اور چینی افواج کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران بھارتی حکومت نے غیر معمولی فیصلے کے تحت پینگ گانگ جھیل پر میرین کمانڈوز تعینات کئے ہیں۔ ان کمانڈوز کو خصوصی ہتھیاروں سے لیس کیا گیا ہے جبکہ سردی سے بچنے کی خاطر مذکورہ اہلکاروں کو خصوصی وردی بھی فراہم کی گئی ہے۔ پینگ گانگ جھیل پر سپیشل کمانڈوز کی تعیناتی کے بعد لداخ میں ایک بار پھر چین اور بھارت کی افواج کے درمیان کشیدگی کا ماحول دیکھا جارہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق میرین کمانڈوز کیلئے خصوصی کشتیاں بھی لائی جارہی ہیں تاکہ سردی کے ایام میں وہ بہتر طریقے سے اپنے فرائض انجام دے سکیں۔ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت چین کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر زمینی افواج کے خصوصی دستے بھی تعینات کرنے جارہی ہیں۔ پینگ گانگ جھیل کے ساتھ ساتھ دوسرے اہم سیکٹروں میں بھی بھارتی افواج کو جدید سازو سامان سے لیس کرنے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ سرکاری ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لداخ میں بھارتی افواج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی خاطر اْنہیں جدید اسلحہ سے لیس کیا جارہا ہے۔مذکورہ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ بھارتی حکومت لداخ میں کوئی خطرہ مول لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ چار ماہ قبل پینگ گانگ جھیل کے قریب ہی بھارتی اورچینی افواج کے درمیان تصادم ہوا تھا جس میں 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…