ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان نے پانچ ہزارارب روپے کا قرض واپس کر دیا پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس 792 ملین سرپلس ہوگیا

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد ( آن لائن ) وفاقی مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس 792 ملین سرپلس ہوگیا ہے، پہلے دوسالوں میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20سے کم کرکے 3ارب ڈالر پر لائے، اب روپیہ مستحکم ہوچکا ہے، 30 جون تااکتوبرتک 4ماہ میں کوئی قرض نہیں لیا، ماضی کے قرضوں پر 5ہزار ارب سود دیا،حکومتی اقدامات سے معیشت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

انہوں نے وزیراطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں بتانا چاہتاہوں کہ ہماری معیشت کہاں کھڑی ہے، معیشت میں بہتری کے فوائد کس طرح عوام تک پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں، جب حکومت آئی تو معاشی بدحالی تھی، جس کے لیے ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، آئی ایم ایف کے اس وقت ہی جایا جاتا ہے جب معیشت میں بحرانی کیفیت ہو۔ٹیکسز میں 17فیصد اضافہ ہوا، آمدنی اور اخراجات میں فرق کو سرپلس کیا گیا، کاروباری طبقات کو مراعات دی گئیں، معاشی صورتحال میں بہتری اور برآمدات میں اضافہ ہوا۔ لیکن کورونا وائرس آیا تو معیشت کو دھچکا لگا، 1000 ارب کا مالی امداد دی گئی، گندم خریدنے کا پیکج دیا گیا، ایک کروڑ پچاس ہزار لوگوں کو نقد کیش دیا گیا۔مشیر خزانہ نے کہا کہ اس وقت ہماری بیرونی معاشی ترقی میں بہتری آئی ہے، پہلے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20ارب ڈالر تھا، اس کو گرا دو سالوں میں 3ارب کیا گیا، اب 792ملین کا سرپلس ہے، اندرونی خسارہ ہمارے اخراجات آمدن سے زیادہ تھے، لیکن ہم نے اخراجات میں کمی کی ، ٹیکسز میں اضافہ کیا، جس کے باعث قرضہ نہیں لیا۔اسی طرح عمران خان کی حکومت کو5ہزار ارب روپے ماضی کے قرضوں پر سود کی مد میں دینا پڑے۔ اگر یہ پانچ ہزار ارب نہ دینے پڑتے تو مزید ترقی ہوسکتی تھی۔ پاکستان کے 30جون سے 30اکتوبرتک پاکستان کے قرضوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، 30جون تک پاکستان کا قرض 36.4ٹریلین تھا، اب 30 اکتوبر کوبھی 36.4ٹریلین ہے، یعنی 4ماہ سے قرضہ نہ لینا بڑی کامیابی ہے۔ہماری معیشت بڑھ رہی ہے، بڑی کمپنیوں کی گروتھ میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے، سیمنٹ 16سے بڑھ کر20ملین ٹن ہے، اس میں برآمدات بھی شامل ہے، گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی فروخت میں بھی اضافہ ہورہا ہے، ہمارا روپیہ بالکل مستحکم ہوچکا ہے، اسٹیٹ بینک کے ذخائر بھی 13بلین ڈالر کی حد تک پہنچ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے پہلے چار ماہ میں ایک ہزار40ارب جمع کیے،جو کہ ہدف سے زیادہ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…