جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

آکسفورڈ یونیورسٹی کی کورونا ویکسین کب تک تیار ہوکر مارکیٹ میں دستیاب ہوگی؟مریضوں کیلئے خوشخبری آگئی

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

لندن (این این آئی )برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی اور دوا ساز کمپنی آسترا زینیکا کی کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ویکسین اگلے ماہ تک تیار ہوسکتی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات آسترا زینیکا کے چیف ایگزیکٹیو نے بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی کورونا وائرس ویکسین دسمبر کے

آخر تک استعمال کے لیے تیار ہوگی ، جس کے لیے ریگولیٹری منظوری کا انتظار کیا جارہا ہے۔ انٹرویو میں چیف ایگزیکٹیو پاسکل سوریوٹ نے بتایا ریگولیٹری حکام مسلسل ہمارے ڈیٹا پر کام کررہے ہیں، اگر وہ ہمارے تیار ہونے پر تیزرفتاری سے کام کریں گے تو ہم لوگوں کو جنوری یا دسمبر کے آخر تک ممکنہ طور پر ویکسین فراہم کرنا شروع کردیں گے۔آکسفورڈ یونیورسٹی اور آسترازینیکا کی اس ویکسین کو کورونا وائرس کے علاج کے لیے چند بہترین کوششوں میں سے ایک قرار دیا جارہا ہے، جس کے لیے کئی ماہ سے کام جاری ہے۔پاسکل سوریوت کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہم کبھی اس ویکسین سے کما نہیں سکیں گے، مگر ابھی کسی کو معلوم نہیں کہ لوگوں کو کب تک ویکسینیشن کی ضرورت ہوگی، اگر یہ ویکسین بہت موثر ہوئی اور لوگوں کو کئی برسوں تک تحفظ ملا، جس دوران یہ بیماری غائب ہوگئی تو پھر اس کی کوئی مارکیٹ نہیں ہوگی۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ بیشتر ماہرین کا ماننا ہے کہ لوگوں کو دوبارہ ویکسین کی ضرورت ہوگی، اگر ایسا سالانہ بنیادوں پر ہوا ہم اس ویکسین سے 2022 میں آمدنی حاصل کرنا شروع کردیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مگر ہمیں اس سے پہلے یقین کرنا ہوگا کہ ویکسین واقعی کارآمد ہے۔کمپنی کے چین میں سربراہ لیون وانگ نے بتایا کہ چین میں اس ویکسین کے استعمال کی منظوری 2021 کے وسط میں دیئے جانے کا امکان ہے، جس کا انحصار ٹرائل کے پہلے اور دوسرے مرحلے میں محفوظ ہونے کے ڈیٹا اور تیسرے مرحلے میں اس کی افادیت کے ڈیٹا پر ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ چین میں ویکسین کے ٹرائلز کے لیے مقامی شراکت دار کی مدد لی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…