پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ریکوڈیک منصوبے میں قومی خزانے کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچانے والے عناصر بے نقاب، اعلیٰ عہدیداران سمیت 26 افراد کیخلاف تاریخی ریفرنس دائر

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

کوئٹہ(این این آئی)قومی احتساب بیورو بلوچستان نے ریکوڈیک منصوبے میں قومی خزانے کو کھربوں روپے کا نقصان پہچانے والے کرپٹ عناصر کاکھوج لگا لیا، ڈی جی نیب آپریشن اور ڈی جی نیب بلوچستان کی سربراہی میں کام کرنے والی نیب کی تحقیقاتی ٹیم نے شبانہ روز انتھک محنت اور مختلف محکمہ جات کے30 سال کے ریکارڈ کی عرق ریزی کے بعد ملزمان کے خلا ف ثبوت اکھٹے

کرتے ہوئے حکومت بلوچستان کے سابقہ عہدیداران سمیت 26 افراد کے خلاف پیچیدہ اور تاریخی ریفرنس احتساب عدالت کوئٹہ میں دائر کر دیا، ملزمان نے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے قومی مفادات کی دھجیاں اْڑا دیں، کرپٹ عناصر کی وجہ سے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔تفصیلات کے مطابق سال 1993 میں بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور بروکن ہلز پروپرائیٹر ی نامی آسٹریلیوی کمپنی کے مابین چاغی ہلز ایکسپلوریشن جوائنٹ ونیچر کا ایک معائدہ طے پایاجس میں حکومت بلوچستان بالخصوص بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے افسران کی جانب سے آسٹریلوی کمپنی کو غیر قانونی فائدہ پہنچایا گیا، قومی مفادات سے متصادم اس معائدہ کی شرائط کو مزید مستحکم کرنے کے لیے نا صرف غیر قانونی طریقہ سے بلوچستان مائینگ کنسیشن رولز میں ترامیم کی گئیں بلکہ بار بار غیر قانونی طور پر ذیلی معاہدات کر کے ٹیتھیا ن کا پر کمپنی نامی نئی کمپنی کو متعارف کرکے اربوں روپے کے مزید مالی فائدے حاصل کیے گے۔ علاوہ ازیں محکمہ مال کے افسران کی جانب سے زمین کی الاٹمنٹ اور دیگر امور میں بھی شدید بے قاعدگیاں سامنے آئیں اور ملزمان نے اس مد میں مالی فوائد لینے کا اعتراف بھی کیا۔ریکارڈ کی جانچ پڑتال اور گواہان کے بیانات سے چشم کشا حقائق سامنے آئے جس کے مطابق ٹی سی سی کے کارندے سرکاری ملازمین کو رشوت دینے اور ناجائز طور پر مفادات حاصل کرنے

میں ملوث پائے گئے۔ انہی کرپٹ عناصر کی وجہ سے ریکوڈک منصوبے جس میں ملکی خزانے کو اربوں روپے کا فائدہ حاصل ہونا تھا بد عنوانی کی نظر ہو گیا۔ بد عنوانی کے اس تاریک باب کی تحقیقات کے لیے 30 برس کے ریکارڈ کی جانچ پڑتا ل کی گئی، بیرون ملک مقیم ملزمان کو بارھا طلب کیا گیا، بالآخر ڈی جی نیب آپریشن اور ڈی جی نیب بلوچستان کی سربراہی میں کام کرنے والی تحقیقاتی

ٹیم نینیب کی تاریخ کے سب سے پیچیدہ اور کرپشن کے والیم کے حساب سے سب سے بڑے کیس کی گھتیاں سلجھاتے ہوئے چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی منظوری کے بعد حکومت بلوچستان کے سابقہ عہدیداران سمیت 26 افراد کے خلا ف ناقابل تردید ثبوتوں کی روشنی میں ریفرنس احتساب عدالت کوئٹہ میں دائر کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس تاریخ ساز کیس میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…