بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

چوہر ے قتل کا اندوہناک واقعہ، پورا پاکستان لرز اٹھا

datetime 4  جولائی  2015 |

اٹک(نیوزڈیسک)چوہر ے قتل کا اندوہناک واقعہ، پورا پاکستان لرز اٹھا۔فتح جنگ معمولی تنازعہ پر جنونی شخص نے کلاشنکوف سے وحشیانہ فائرنگ بیوی ،بھاوج،چچا کو قتل ،بھتیجے اور کزن کوشدید زخمی کرنے کے بعد خود کو بھی گولی مار کر خودکشی کر لی 4لاشیں ایک ہی گھر سے ا µٹھنے پر ہر آنکھ اشک بار زخمیوں میں ایک کی حالت تشویشناک،فتح جنگ کے گاﺅں دوالہال کی آبادی ڈھوک نتھیں کے فضل داد ولد محمد صادق نے پولیس کو بیان دیا کہ ہم دو بھائی ایک ہی حویلی میں رہائش پذیر ہیں میرا بھائی ریاض رات کو گھر آیا تو راستے میں گدھی باندھنے کی وجہ سے آگ بگولہ ہو گیا میں نے گدھی کو دوسری جگہ باندھ دیا اسی اثناءمیں ریاض گھر سے کلاشنکوف ا µٹھا لایا میں دوڑ کر کمرے میں چلا گیا ریاض نے مجھ پر فائر کیئے جو مجھے نہ لگے میری بیوی شاہین اختر اور بیٹا رمضان سامنے آئے تو ریاض نے ان پر فائرنگ شروع کر دی گولیا ں لگنے سے میری بیوی شدید زخمی ہو کر موقع پر جاں بحق جبکہ بیٹا زخمی ہو گیا ملزم ریاض کی بیوی فوزیہ فائرنگ کی آواز سن کر دوڑی تو ریاض نے اسے بھی پکڑ کر حویلی سے باہر نکال کر گولیاں مارکر قتل کر دیا فضل داد نے بتایا کہ بیوی اور بھابھی کو قتل کرنے کے بعد ملزم ریاض چچا منور خان کے گھر گیا اور اس پر بھی گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جو موقع پر جاں بحق ہو گیا چچا کا بیٹا بشارت سامنے آیا تو ریاض نے اس کو بھی گولیاں مار کر شدید زخمی کر کے پھر گدھی کو فائرنگ کر کے مار دیا محمد رمضان نے بتایا کہ اس کے بعد ریاض کلاشنکوف لیکر گھومتا رہا پولیس کا موقع پر پہنچ جانے کے بعد پولیس نے اس کو پکڑنے کی کوشش کی تو اس نے پولیس کو دھمکی دی کہ آگے جو کوئی بھی آیا تو میں اس کو اڑا دوں گا اور کچھ دیر بعد ہی اسی کلاشنکوف سے خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی قتل ہونے والوں کی لاشوں کو تحصیل ہیڈکوارٹرہسپتال سے پورسٹ مارٹم کے بعد ورثاءکے حوالے جبکہ شدید زخمی بشارت کو ہولی فیملی راولپنڈی منتقل کر دیا گیا ایک ہی گھر سے چار لاشیں ا µٹھنے پر علاقے کی فضاءسوگوار اور ہر آنکھ اشک بار تھی ۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…