ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

مریم نواز کے کوئٹہ پہنچتے ہی ن لیگ کو بڑی کامیابی مل گئی اہم ترین وکٹ اڑا دی

datetime 24  اکتوبر‬‮  2020 |

کوئٹہ،لاہور( آن لائن ، این این آئی)پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی طرف سے 25اکتوبر کو کوئٹہ میں رکھے گئے جلسے سے قبل حزب اختلاف اتحاد کو صوبے میں اہم کامیابی مل گئی ، جہاں مسلم لیگ ق بلوچستان کے صدر جعفر مندو خیل نے پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کردیا۔

میڈیا ذرائع کے مطابق انہوں نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویزالہی کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور میں ذاتی طور پر پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کررہا ہوں۔پی ڈی ایم کے جلسے میں شرکت کیلئے کوئٹہ پہنچنے والی مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان 15جنوری تک استعفیٰ دے دیں گے ، سیکیورٹی الرٹ کی وجہ سے جلسہ موخر نہیں کرسکتے، حکومت کو اپنا خاتمہ نظر آرہا ہے ، کیا جلسہ موخر کرنے سے سیکیورٹی تھریٹ ختم ہوجائے گا ، سیکیورٹی کے انتظامات کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ، کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ ہوا تو حکومت اس کی ذمہ دار ہوگی ، نائب صدر ن لیگ نے کہا کہ بلوچستان کومسلم لیگ ن کی طرف سے ہمیشہ ترجیح دی گئی ، اسی لیے نوازشریف جب وزیراعظم بنے تو بلوچستان کو ترجیح دی۔دریں اثنا جاتی امراء سے کوئٹہ روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پی ڈی ایم کی تحریک میں ملک

کے طول و عرض سے لوگوں کے شامل ہونے کا بڑا اثر ہے اور عمران خان کے انٹر ویو میں اس کے آثار نمایاں تھے، جس انسان کو یہ معلوم ہی نہیں دبائو میں کیا کام کرنا ہے اس کی ایسی حالت ہی ہوتی ہے ،مجھے حکومت کے معاملات زیادہ دیر تک چلتے ہوئے نظر نہیں آتے ۔

انہوں نے کہا کہ نجی ٹی وی کے صحافی کو اغواء کر لیا گیا ، سنا ہے اس نے کراچی واقعہ کی فوٹیج آن ائیرکی تھی ،یہ قابل افسوس بات ہے ، میرے کمرے پر حملہ کر کے کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سے آپ نے بدنامی کما لی ہے ، آئی جی کو اغواء کیا گیا ، صوبے کو نیچا دکھایا گیا ۔

صحافی کو اغواء کرکے آپ حق و سچ کی آواز کو دبا نہیں سکتے اس لئے مزید بدنامی نہ کمائیں ، اس روایت کو ختم ہونا چاہیے۔ مریم نواز نے کہا کہ آج لوگ روٹی کو ترس رہے ہیں، چینی اور آٹا مارکیٹ سے غائب ہے لیکن سلیکٹڈ کی ساری توجہ نواز شریف کے اوپر ہے ۔

اب سمجھ آئی ہے کہ بڑی کرسی پر بیٹھ کر بھی قد چھوٹا ہی رہتا ہے اور اس قدر کو بڑا کرنے کے لئے بڑے لوگوں کے نام لینا پڑتے ہیں اس لئے آپ ہر وقت نواز شریف کے نام کی رٹ لگائے رہتے ہیں، این آر او کی ضرورت اب عمران خان کو ہے ۔ انہوںنے کہا کہ میں سمجھتی ہوں

کہ کراچی واقعہ کی انکوائری کا حق صرف سندھ حکومت کو ہے کسی ادارے کو نہیں، اداروں کو شامل ضرور ہونا چاہیے ،جعلی وفاقی حکومت ہی سہی لیکن آپ وزیر اعظم کے دفتر میں بیٹھے ہو ،آپ کو وزیر اعظم ہائوس کی عزت کیلئے اس میں شامل ہونا چاہیے تھا ۔ انہوں نے کہا کہ

میں تو سمجھتی ہوں کہ اس واقعہ کی انکوائری کی ہی ضرورت نہیں اور سب کچھ روز روشن کی طرح عیاں ہے ۔ آپ جب اس پر پردہ ڈالیں گے ، لوگوں کو اٹھا کر شمالی علاقہ جات کی سیر و سیاحت کیلئے لے جائیں گے حقائق تبدیل کریں گے اور غلطیاں چھپانے کی کوشش کریں گے

تو ایسا نہیں ہوگا۔مریم نواز نے کہا کہ سلیکٹڈ کو پتہ ہونا چاہیے کہ برطانیہ قانون کے تحت چلتا ہے، وہاں ارشد ملک جیسے ججز نہیں ہوتے، وہاں عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈال کر کوئی وزیر اعظم مسلط نہیں کیا جاتا اور دبا کے تحت ججز سے فیصلے نہیں لیے جاتے۔انہوں نے عمران خان کی

جانب سے نواز شریف کو واپس لانے کے لئے برطانیہ جانے کے بیان بارے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ وہاں جائیں تو انہیں پتہ لگ جائے گا، یہ اپنی جو عزت پاکستان میں کرا چکے ہیں، اگر وہ برطانیہ میں بھی کرانا چاہتے ہیں تو بالکل ایسا کریں۔ایک دفعہ یہ الطاف حسین کو بھی لانے گئے تھے، ان کی بھڑکیںآپ سنا کریں، برطانیہ قانون کے تحت چلنے والا ملک ہے اور وہ اس طرح کی بھڑکوںکو کچھ نہیں سمجھتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…