پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

جسٹس فائز نے وزیراعظم کو صحیح نوٹس دیا، ہم بھی انہیں نوٹس جاری کریں گے، لاہور ہائی کورٹ کے ریمارکس

datetime 15  اکتوبر‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز نے وزیراعظم کو صحیح نوٹس دیا، ہم بھی انہیں نوٹس جاری کرینگے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ قاسم خان نے کرتارپور سڑک کی تعمیر سے متعلق شکرگڑھ بار ایسوسی ایشن کی درخواست کی سماعت کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل، شکر گڑھ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے

ہائیکورٹ بار کے صدر نصراللہ وڑائچ اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیے کہ یہ کرتارپور پراجیکٹ وفاقی حکومت نے کیسے بنایا، مذہبی عقیدت مند اگر لاہور سے کرتار پور جانا چاہیں تو سڑک کی حالت ہی خراب ہے، آپ نے کوئی نئی جگہ تو نہیں بنائی یہ تو مذہبی جگہ ہے اور ہمیشہ سے ہے، آپ نے تو عقیدت مندوں کو سہولت دینی تھی، یہ پتہ کرکے بتائیں کہ یہ پراجیکٹ وفاقی حکومت نے کیسے لے لیا، کیا وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو فنڈز ٹرانسفر کیے تھے، آپ کمیونیکیشن سے ہیں آپ کو معلوم ہوگا۔افسر کمیونیکشن ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ مجھے علم نہیں ہے۔چیف جسٹس ہائی کورٹ نے کہا اس کا مطلب ہے کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے آئینی معاملات میں مداخلت کررہی ہے، اس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے صحیح نوٹس دیا ہے، ہم بھی وزیراعظم سمیت دیگر کو صوبائی حکومت کے معاملات میں دخل اندازی پر نوٹس جاری کرینگے، یہ تو حکومت کا سب سے بڑا لطیفہ ہوگیا، اربوں روپے یہاں وزیراعظم اور وزیراعلی اپنے ضلع پر خرچ کررہے ہیں، یہ قومی مفاد کی سڑک ہے لیکن یہاں خرچ نہیں کررہے، یہ باتیں تین مہینے سے آپ کی سمجھ میں نہیں آرہیں آج کھل کر کرنی پڑی ہیں۔عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ قاسم خان نے کرتارپور سڑک کی تعمیر سے متعلق شکرگڑھ بار ایسوسی ایشن کی درخواست کی سماعت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…