اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

’’چوری افسران کریں اور اس کی قیمت صارفین ادا کریں ‘‘ وزارت پٹرولیم میں اربوں روپے کی کرپشن کا ایک نیا سکینڈل‎

datetime 14  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) وزارت پٹرولیم میں 5ارب روپے کا ایک اور انوکھا سکینڈل سامنے آیا ہے اور سکینڈ ل سوئی سدرن گیس کمپنی کے کرپٹ افسران اور وزارت پٹرولیم کے اعلیٰ افسران نے گیس چوری روکنے کے نام پر اربوں روپے ہڑپ کرلئے ہیں۔ سوئی سدرن گیس کمپنی میں

ہر سال کی اربوں روپے کی گیس چوری ہوتی ہے جس کی وجہ سے گیس صارفین کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔سوئی سدرن گیس کمپنی اور وزارت پٹرولیم اعلیٰ حکام نے گیس چوری، گیس لیکج روکنے کے لئے ورلڈ بینک کے ساتھ Gas Efficiency کے نام پر ایک منصوبہ تیار کیا جس پر کل لاگت318ملین ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا۔ اس منصوبہ میں 200ملین ڈالر ورلڈ بینک نے دینے تھے جبکہ 120ملین ڈالر حکومت پاکستان نے ادا کرنے تھے اور یہ اربوں روپے کا منصوبہ کا مقصد سوئی سدرن گیس کمپنی سے گیس چوری کو روکنا تھا۔ سوئی سدرن میںہر سال 14 – 43 فیصد گیس چوری ہوتی ہے اور یہ ٹارگٹ تھا کہ گیس چوری کی شرح کو 6.5فیصد تک لایا جائے۔ وزارت پٹرولیم اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے اعلیٰ حکام نے 318ملین ڈالر خرچ کرنے کی بجائے گیس چوری میں بے تحاشااضافہ ہو گیا ہے اور اربوں روپے افسران لوٹنے میں کامیاب ہوئے ہیں جن کا ابھی تک کوئی احتساب نہیں کیا گیا۔ اوگرا کی ہر سال کی رپورٹ کے مطابق سوئی سدرن میں گیس چوری میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اس لئے اربوں روپے خرچ کرنے کی بجائے کوئی فائدہ قوم کا نہ ہوا جبکہ گیس چوری کے نام پر لوٹ مار مچانے والا گروہ اربوں روپے لوٹ کر دندناتا پھر رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…