جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

آذری فوج نے آرمینیا فوج کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی آذربائیجان نے آرمینیا کے 26 علاقوں کے بعد ایک اور شہر پر راتوں رات قبضہ کر لیا ، آذربائیجان فوج کا دھماکہ خیز اعلان

datetime 9  اکتوبر‬‮  2020 |

ناگورنو کاراباخ ( آن لائن )ناگورنو کاراباخ جنگ میں آرمینیا کی فوج کی مسلسل پسپائی جاری، آذربائیجان نے 26 علاقوں کا کنٹرول حاصل کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق آذبائیجان کے ڈپٹی ہیڈ آف مشنز سمیر گلئیوف کا کہنا ہے کہ آرمینیا نے پہلے جنگ کا آغاز کیا جس کے بعد ہم نے جوابی کارروائی کی ہے۔

آرمینیا کے خلاف جنگ میں اب تک ہم نے 26 علاقوں سمیت ایک شہر فتح کرلیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آرمینیائی جارحیت سے اب تک 31 شہری شہید اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں قائم سفارت خانے میں سفیر اور ملٹری اتاشی کرنل نوروز کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے آذربائیجان کے ڈپٹی ہیڈ آف مشنز نے کہا کہ آرمینیا نے بیرون ممالک سے آئے دہشت گردوں کو مسلح کر کہ محاذ پر بھیجنا شروع کر دیا ہے، آذربائیجان صرف اپنی سالمیت کا دفاع کررہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آرمینا کا بنیادی مقصد شہری آبادیوں کا نشانہ بنا کر دہشت پھیلانا ہے، جو کہ جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔ شہریوں کو آرمینا فوج کی جارحیت سے بچانے کے لیے ہماری افواج صرف جوابی کارروائی کررہی ہیں۔ آذربائیجان کے ملٹری اتاشی مہمان نوروز کا کہنا تھا کہ آذربائیجان کی افواج نے انتہائی کامیابی سے آرمینیا کو نشانہ بنایا، جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی آزری افواج کے نگورنوکاراباخ میں چھ دیہات واپس لیے اور کئی اہم مقامات پر قبضہ حاصل کرلیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دس روز میں آزبائیجان کی افواج نے 25 دیہات اور ایک شہر کو آرمینیا کے قبضہ سے آزاد کرایا۔ ملٹری اتاشی نے بتایا کہ 5 اکتوبر کو آرمینیا نے سمرچ اور توچکا میزائل سے آزربائیجان کے علاقوں کو نشانہ بنایا، ہم اب بھی گولہ باری کرنے والی آرمینیائی افواج کی چوکیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ ناگورنو کاراباخ کے متنازعہ علاقے پر قبضے کی وجہ سے ہو رہی ہے جو ابتدائی طور پر ایک جھڑپ تھی مگر اب اس نے باقاعدہ جنگ کا روپ دھار لیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…