جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب میں ریت کے ٹیلوں پر پانی کے چشموں کے منفرد مناظر

datetime 29  ستمبر‬‮  2020 |

تبوک (این این آئی)سعودی عرب کے شمالی ساحلی شہرتبوک اپنے قدرتی حسن وجمال کی وجہ سے اپنی ایک خاص پہچان رکھتا ہے۔ اس شہر میں ایک طرف ساحل سمندر اور دوسری طرف شدید ڈھلوانوں والے پہاڑ اور ان کے درمیان واقع کہیں تنگ اور کہیں کشادہ وادیاں اور کہیں ریت کے ٹیلے دیدہ وبینا کو دعوت نظارہ دیتے ہیں۔ کھجور کے سرسبز اور اونچے اونچے درخت ٹیلوں،

پہاڑوں میدانوں کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے ہیں مگر قدرتی حسن یہیں ختم نہیں ہو جاتا بلکہ ان ریتلے ٹیلوں پرصاف و شفاف پانی کے ابلتے چشمے اور چھوٹے چھوٹے ندی نالے ایک طلسماتی کیفیت طاری کر دیتے ہیں۔وہاں پر ایک مرکزی مقام ‘مقنا’ ہے جہاں پر اسی نام سے ایک فائن آرٹ کا مرکز قائم ہے۔ یہ مرکز اطراف واکناف کی وادیوں اور ان میں پائے جانے والے خوبصورت مقامات کے مناظر کو کیمروں میں محفوظ کرکے انہیں زائرین اور سیاحوں کے لیے پیش کرتا ہے۔ مقنا کے حسن کی اہم وجہ پہاڑ اور ساحل سمندر کا ایک ساتھ ہونا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے درمیان واقع ریتلے ٹیلے اور ان میں بہتے چشمے ہیں۔ اسی راستے پر تھوڑے فاصلے پر البدع گورنری واقع ہے جہاں بہترین معیار کی کھجوریں اور دوسرے پھل کاشت کیے جاتے ہیں۔مقنا کے شمال میں وادی طیب واقع ہے۔ یہ بلند، سنگلاخ اور شدید ڈھلوان والے پہاڑوں کے درمیان ایک تنگ گذرگاہ ہے۔ اس کا پانی خلیج عقبہ میں گرتا ہے۔ یہ تو اس کے پہاڑوں کا حال ہے۔ وہاں کے ساحل سمندر کا اپنا ہی نظارہ ہے۔ پیراکی کے شوقین اور ماہی گیر یہاں پر اپنا اپنا شوق پورا کرنے آتے اور یہاں کے پرکیف ماحول اور نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔مقنا مرکز کے مشرق میں تاریخی مقنا چشمے واقعے ہیں۔ یہاں پر پرانے زمانے سے ریتلی زمین کے اندر سے چشمے ابلتے چلے آ رہے ہیں۔ ان کے اطراف میں کھجوروں کے باغات ہیں۔ یہ چشمے، ان کے اطراف میں پھیلے پاڑ، ساحل، کھجور کے باغات اور ریت کے ٹیلے سب مل کر سیاحوں کے لیے غیرمعمولی کشش پیدا کرتے ہیں۔ سعودی عرب میں یہ بحر وبر کی خوبصورتی کا حسین امتزاج ہے۔مقنا کو ساحلی شہر کا درجہ حاصل ہے۔ یہ شہر خلیج عقبہ میں شمالی شہر تبوک کے قریب واقع ہے۔ اس کے ایک طرف حقل اور الشیخ حمید شہر واقع ہیں جب کی مقنا گائوں جسے البدع گورنری بھی کہا جاتا ہے وہاں سے مغرب میں 35 کلومیٹر کی مسافت پر ہے۔ وہاں سے تبوک شہر کا فاصلہ 235 کلو میٹر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…