ہفتہ‬‮ ، 14 مارچ‬‮ 2026 

اپوزیشن کا حکومت کی دلالی کرنے والے سپیکر کی دعوت پرنہ جاکر عدم اعتماد کا برملا اظہار،حافظ حسین احمد نے شیخ رشید کو افسوسناک لقب دیتے ہوئے کھلم کھلا دھمکی دے ڈالی

datetime 27  ستمبر‬‮  2020 |

کوئٹہ/اسلام آباد(آن لائن) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان اور سابق ممتاز پارلیمنٹرین حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی غیر جانبدار نہیں رہے اس لیے جے یو آئی سمیت پی ڈی ایم کے دیگر جماعتوں نے بھی گلگت بلتستان کے حوالے سے ان کے بلائے گئے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔وہ اتوار کو اپنی رہائشگاہ جامعہ مطلع العلوم میں میڈیا اورمختلف وفود سے گفتگو کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی معاملات خصوصاً قانون سازی پر اپوزیشن کو اعتماد میں لینا پارلیمنٹ کے قائد ایوان وزیراعظم کے فرائض میں شامل ہے لیکن گذشتہ دو سالوں سے وہ اپوزیشن سے ”کُٹی“ کئے ہوئے ہیں اور باامر مجبوری سیاسی معاملات میں مشاورت کے لیے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو اپوزیشن کو ملاقات کی دعوت دینی پڑتی ہے لیکن شومئی قسمت سے آئی ایس پی آر کی موجودگی اور ڈی جی کے عہدے پر فائز ایک جنرل کے ہوتے ہوئے ایک ”ٹاؤٹ“ کے ذریعہ جس طرح خبروں کو پبلک کیا گیا اس سے اپوزیشن کے لیے اب اس فیصلہ کے سوا کوئی اور آپشن باقی نہیں رہا، حافظ حسین احمد نے کہا کہ اگر اس خرابی اور اعتماد کی فضاء کو نقصان پہنچنے کے بعد بھی آئی ایس پی آر اپنے ”پالتو“ کو ”پھٹہ“ نہیں ڈالتے یا اس کی سرزنش نہیں کرتی توپھر میڈیا پر اس کی ”ہرزہ سرائی“ کا بھرپور جواب دیاجائیگا جس کی زد میں اس کی بے جا سرپرستی کرنیوالے بھی آئیں گے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسپیکر کا قابل احترام منصب غیر جانبداری کا متقاضی ہے اپوزیشن کی آواز دبانے کے لیے حکومت کی ”دلالی“ اور پشتی بان کا کردار ادا کرنے والے اسپیکر قومی اسمبلی کی دعوت پر نہ جاکر اپوزیشن نے اپنے ”عدم اعتماد“ کا برملا اظہار کردیا ہے کیوں کہ اس منصب پر فائز شخصیت کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ قائد ایوان، وزیر پارلیمانی امور اور وزیر قانون وغیرہ کی ذمہ داریاں بھی

سنبھالیں جبکہ عمران خان بھی اکثر اپنی ذمہ داریوں کو آرمی چیف اور کبھی اسپیکر قومی اسمبلی کے ذریعہ حاصل کرنا چاہئے جس سے دونوں ”بظاہر“ غیر جانبدار شخصیتوں کوتنقید کا نشانہ بننا پڑتا ہے اور یہ طریقہ ”واردات“ پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار ”عمرانی حکومت“

نے متعارف کرایا ہے، جمعیت کے ترجمان نے کہا کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ غیر جانبدار مناصب پر فائز قابل احترام شخصیات اپنے آئینی اور غیر جانبدارانہ کردار پر آنچ نہ آنے دیں ویسے بھی ”جس کا کام اس کے ساجھے“ پر عمل پیرا ہونا ہی قوم و ملک کے مفادمیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…