اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

کے الیکٹرک شہریوں کیلئے دن کا جنجال اور رات میں ڈراونا خواب بن گئی  بجلی کی بندش کیخلاف عوام سراپا احتجاج

datetime 25  ستمبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)کراچی کے مختلف علاقوں میں بدترین لوشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے،عوام بجلی کی بندش کیخلاف سراپہ احتجاج ہیں،شہریوں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود شہر میں طویل لوڈ شیڈنگ گورننس پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جبکہ کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ پریشر کم ہونے کے باعث گیس پر چلنے والے پاور پلانٹ بند کرنا پڑے ہیں

جس سے پیداوار 400میگاواٹ کم ہوگئی ہے۔تفصیلات کے مطابق کے الیکٹرک شہریوں کیلئے دن کا جنجال اور رات میں ڈراونا خواب بن گئی۔ شہر کے اکثر علاقے دن اور رات کے 24میں سے 12 گھنٹے بجلی سے محروم رہتے ہیں۔لائن لاسز والے علاقوں کا تو کوئی پرسان حال ہی نہیں ہے۔ ڈیفنس، کلفٹن، گلشن اقبال، گلستان جوہر اور ناظم آباد سمیت وہ علاقے جہاں زائد بل بھی پابندی سے بھرے جاتے ہیں وہاں بھی تین سے چار مرتبہ بجلی بند کی جارہی ہے۔ اکثر علاقوں میں دن اور رات میں شدید گرم موسم میں بارہ سے چودہ گھنٹے کی اعصاب شکن لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔نیوکراچی، سرجانی ٹائون، لانڈھی، کورنگی، ملیر، اولڈ سٹی ایریا سمیت لائن لاسز والے علاقوں کا اندازہ لیاقت آباد سی ون ایریا سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے جہاں بجلی 12 گھنٹوں تک غائب رہی۔ڈیفنس، کلفٹن، گلشن اقبال، گلستان جوہر اور ناظم آباد جیسے وہ علاقے جو اوور بلنگ بھی ہنسی خوشی برداشت کرتے ہیں وہاں بھی تین سے چار مرتبہ ایک سے دو گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔گلشن حدید،  لیاری ،گلشن معمار، اسکیم33، قائد آباد، صفورہ اورلانڈھی،کورنگی، شاہ فیصل، گلستان جوہر، گلشن تیرہ ڈی،ابوالحسن اصفہانی روڈ، بلدیہ ٹاون، گلستان جوہر بلاک اورگلشن اقبال، موسی کالونی پیالہ ہوٹل، ملیر، کاٹھور، گڈاپ، احسن آباد، خواجہ اجمیر نگری ، نصرت بھٹو کالونی ،گلستان جوہراور شاہ فیصل گرین ٹائون کے علاقے رات گئے اندھیرے میں ڈوب گے۔ بلدیہ سعید آباد، اورنگی ٹائون، نارتھ کراچی، نیوکراچی اور سرجانی گلشن معمار میں لوڈشیڈنگ نے لوگوں کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ شہر میں بجلی فراہمی کی بدترین صورتحال کی وجہ سے راتوں کو جاگنے کے باعث گھر چلانے والے کاموں پر نہیں جاپاتے جبکہ بچے اپنی نیند اسکول اور کالج میں پوری کرنے پر مجبور ہیں۔ کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی میں تعطل کے باعث پانی کی قلت کا مسئلہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔ ادھرگارڈن البیلا سگنل پر بجلی  کے ستائے عوام نے سڑک  بلاک کر کے الیکٹرک کی خلاف شدید نعرے بازی کی۔کئی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ دس اور کئی علاقوں میں پندرہ گھنٹے تک پہنچ گیا ہے۔ لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ علاقوں میں بھی دن میں تین بار گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ترجمان کے الیکٹرک کا موقف ہے کہ گیس پریشر میں کمی کے باعث گیس پر چلنے والے چار میں سے تین پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے اور بجلی کی طلب و رسد میں فرق بڑھ رہا ہے۔دوسری جانب ترجمان ایس ایس جی سی کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کو کوٹے کے مطابق 190 سے 200 ملین مکعب گیس فراہم کی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…