اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

بریگزٹ کا نتیجہ‘ سینکڑوں ارب ڈالر کے اثاثے برطانیہ سے جرمنی منتقل، برطانیہ کو ہونے والا پہلا بہت بڑا نقصان

datetime 25  ستمبر‬‮  2020 |

لندن (این این آئی)امریکا کا ایک بہت بڑا بینک برطانیہ میں اپنے سینکڑوں ارب ڈالر کے اثاثے اب جرمنی منتقل کر رہا ہے۔ جے پی مورگن چیز اینڈ کمپنی کے اس اقدام کو بریگزٹ کے باعث برطانیہ کو ہونے والاپہلا بہت بڑا نقد نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق جے پی مورگن چیز اینڈ کمپنی ایک ایسا امریکی بینک ہے، جو ماضی میں جے

پی مورگن اور چیز مین ہیٹن بینک کے ادغام سے وجود میں آیا تھا۔برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج یا بریگزٹ کے بعد اب اس بینک نے برطانوی دارالحکومت لندن سے اپنے اثاثے جرمنی کے مالیاتی مرکز فرینکفرٹ منتقل کرنا شروع کر دیے ہیں۔نقد اثاثوں کی اس منتقلی کا مقصد یہ ہے کہ یہ امریکی بینک خود کو یورپی یونین سے باہر رہتے ہوئے یورپ میں کاروبار کرنے کے عملی نقصانات سے بچا سکے اور ساتھ ہی یورپ اور یورپی یونین کی سب سے بڑی معیشت میں رہتے ہوئے کاروبار کرنے کے فائدے بھی اٹھا سکے۔بلومبرگ ٹی وی کے مطابق جے پی مورگن چیز اینڈ کمپنی لندن سے اپنے تقریبا 200 ارب یورو یا 230 ارب ڈالر کے اثاثے اب فرینکفرٹ میں اپنے ایک ذیلی ادارے کو منتقل کر رہی ہے اور یہ عظیم الجثہ عمل اس سال کے اواخر تک مکمل ہو جائے گا۔سینکڑوں ارب ڈالر کی اس منتقلی سے واقف ذرائع نے بلومبرگ ٹی وی کو بتایا کہ ان اثاثوں کی منتقلی مکمل ہونے پر جے پی مورگن چیز جرمنی کے بہت بڑے بڑے بینکوں میں سے ایک بن جائے گا۔اگر گزشتہ برس کے دوران کسی بینک کی طرف سے صارفین کو تجارتی بنیادوں پر دیے گئے قرضوں کی مالیت کے پہلو سے دیکھا جائے، تو ان اثاثوں کی منتقلی مکمل ہونے پر جے پی مورگن چیز اینڈ کمپنی جرمنی کا چھٹا سب سے بڑا بینک بن جائے گا۔جے پی مورگن چیز کے ان اثاثوں کی برطانیہ سے جرمنی منتقلی کے بارے میں جب فرینکفرٹ میں اس

امریکی بینک کی ایک ترجمان سے استفسار کیا گیا، تو انہوں نے اس بارے میں کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم اس ٹرانسفر سے باخبر حلقوں کے مطابق جو 230 ارب ڈالر لندن سے فرینکفرٹ منتقل کیے جا رہے ہیں، وہ اس بینک کی ٹوٹل بیلنس شیٹ کے تقریبا دس فیصد کے برابر بنتے ہیں۔ایک اور اہم بات یہ بھی ہے کہ جرمنی کے بنڈس بینک کے ڈیٹا کو سامنے رکھا جائے

تو اس سال جون کے آخر تک جرمنی میں غیر ملکی بینکوں کی مقامی شاخوں کے پاس جتنے بھی اثاثے تھے، چند ماہ بعد ان میں سے تقریبا نصف کے برابر اثاثوں کا مالک جرمنی میں اکیلا جے پی مورگن کا ذیلی ادارہ ہی ہو گا۔برطانیہ اس سال موسم بہار میں یورپی یونین سے نکل چکا ہے، لیکن بریگزٹ کے حوالے سے مختلف دوطرفہ امور کو نمٹانے کے لیے بریگزٹ کی جس ‘عبوری مدت‘

کا ذکر کیا گیا ہے، اس کے ختم ہونے میں اب چار ماہ سے کم کا وقت رہ گیا ہے۔اسی لیے بہت سے بین الاقوامی مالیاتی ادارے اب اس کوشش میں ہیں کہ وہ اپنے زیادہ سے زیادہ کاروبار برطانیہ سے یورپی یونین

منتقل کر دیں۔ ایسے کئی مالیاتی اداروں کی یہ کوشش بھی ہے کہ ان کی کاروباری سرگرمیوں کی برطانیہ سے یورپی یونین میں منتقلی، ہو سکے تو بریگزٹ کی عبوری مدت کے دوران ہی پوری ہو جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…