ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

انڈونیشین فوجی طیارہ انجن کی خرابی کے باعث حادثے کا شکارہوا، ایئرفرانس

datetime 2  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ایئرفرانس کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا کے فوجی طیارے کو پیش آنے والا حادثہ ممکنہ طور پر 4 میں سے ایک انجن کی کم رفتار کے باعث پیش آیا تاہم گنجائش سے زیادہ افراد کو طیارے میں سوار کرنا حادثے کی وجہ نہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سی 130 طیارے فراہم کرنے والی کمپنی کی ایک ٹیم جائے حادثہ پہنچی جہاں انہوں نے شواہد اکٹھے کئے جب کہ ایئرفورس آپریشن کمانڈر ایئروائس مارشل اگوس پوٹرانٹو کا حادثے کے حوالے سے کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کی روشنی سے معلوم ہوتا ہے کہ 51 سال پرانے سی 130 طیارے کے 4 میں سے ایک انجن درکار رفتار نہ پکڑ سکا جس کے باعث وہ اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد زمین پر آگرا جب کہ کم رفتار کے باعث طیارہ دائیں جانب مڑنے کے بعد قریبی ٹاور سے ٹکرا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فضا میں اڑان بھرنے کے بعد پائلٹ نے کنٹرول ٹاور سے رابطہ کیا اور زمین پر واپس آنے کی ہدایات لیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ طیارہ فنی خرابی کا شکارتھا۔ایئرفورس آپریشن کمانڈر کا کہنا تھا کہ طیارہ اڑنے کے بعد فضا میں ہچکولے کھاتا رہا جب کہ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ طیارے کے ٹاور سے ٹکرانے سے قبل اس میں سے کالا دھواں بھی نکل رہا تھا تاہم انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ حادثہ اوور لوڈنگ کے باعث پیش آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سی 130 طیارہ ساڑھے 12 ٹن وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے جب کہ حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کا حادثہ کا مجموعی وزن 8 ٹن تھا جس میں 122 مسافر سوار تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…