خرطوم (مانیٹرنگ ڈیسک) سوڈان نے ملک میں 30 سال سے جاری اسلامی قوانین کا خاتمہ کر دیا ہے۔ سوڈان کی عبوری حکومت نے باغی گروپوں کے ساتھ معاہدے پر اتفاق کیا ہے جس کے مطابق ملک میں تیس سال سے جاری اسلامی قوانین کو ختم کر دیا گیا ہے اور مذہب کو ریاست سے الگ کر دیا گیا ہے۔ سوڈان کے وزیراعظم عبداللہ ہمدوک اور سوڈانی عوام کی آزادی تحریک کے باغی
گروپ کے ایک کمانڈر عبدالعزیز کے درمیان ایتھوپیا کے دارالحکومت، ادیس ابابا میں ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے۔اس معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ریاست کوئی سرکاری مذہب قائم نہیں کرے گی۔کسی بھی شہری کو ان کے مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔معاہدے میں کہا گیا ہے کہ سوڈان کے لئے ایک جمہوری قوم بننے کے لئے جہاں تمام شہریوں کے حقوق کا تدارک کیا گیا ہو، وہاں پر آئین کو ریاست اور مذہب کی علیحدگی کے اصول پر قائم کیا جانا چاہئے، جس کی عدم موجودگی میں خود ارادیت کے بنیادی حق کا احترام کرنا ضروری ہے۔ یاد رہے کہ جنوبی سوڈان کے شہر جوبا میں سوڈان انقلابی فرنٹ (ایس آر ایف) میں باغی گروپوں کے اتحاد کے ساتھ حکومت نے امن معاہدے پر اتفاق کیا تھا اس سے امید کی جا رہی ہے کہ دارفور خطے اور ملک کے دیگر حصوں میں تنازعات بھی ختم ہوسکتے ہیں۔اسلامی قانون جیسے تیس سال قبل عمر البشیر نے نافذ کیا تھا اب انہیں ختم کیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان اصلاحات کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ دوسری جانب اسلام پسند جماعتوں نے ملک میں پاپولر کانگریس پارٹی سمیت عوامی سطح پر تنقید کی ہے۔ پاپولر کانگریس پارٹی کا کہناہے کہ یہ واضح ہے کہ حکومت مغرب کی اطاعت کر رہی ہے ملک کو سیکولرسیشن کی طرف لے جایا جا رہا ہے جو ہماری اقدار اور مذہب کے منافی ہے۔ یہ بھی انکشاف ہواہے کہ اسرائیل کے
موساد کے سربراہ نے متحدہ عرب امارات میں سوڈان کے ایک اعلی عہدیدار سے ملاقات بھی کی ہے۔



















































