منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے ایف بی آر سے ایسی چیز مانگ لی کہ عمران خان سمیت ساری کابینہ پریشان ہوگئی

datetime 31  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی )جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے ایف بی آر سے وزیراعظم عمران خان کا ٹیکس ریکارڈ مانگ لیا۔نجی ٹی وی کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے ایف بی آر کو اپنے مفصل جواب میں کہا

کہ ایف بی آر نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میرا ٹیکس ریکارڈ سویلین شہریوں کو فراہم کیا۔سرینا عیسیٰ نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں وزیراعظم عمران خان، وزیر قانون فروغ نسیم، مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر، سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان، وحید ڈوگر، اشفاق احمد کا ٹیکس ریکارڈ دیا جائے۔انہوں نے ایف بی آر کو اپنے جواب میں یہ بھی کہا کہ ان افراد کے خاندان کے ذرائع آمدن، انکم ٹیکس اور ٹیکس ریٹرن سمیت بیرون ممالک بینک اکاونٹس کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔دریں اثنا ایف بی آرنے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینہ عیسیٰ کی منی ٹریل کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔ نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایاکہ ایف بی آر نے سرینہ عسیی کی لندن جائیدادوں کی جمع کرائی گئی منی ٹریل کا جائزہ لیا اور پھر 21 اگست کو سیکشن 122 اور 111 کے تحت 2 نوٹس بھیجے۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے سرینہ عیسی کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آپ کی مجموعی آمدن لندن جائیدادیں خریدنے کے لیے کافی نہیں تھی۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ ایف بی آر کی ٹیم کے مطابق سرینہ عیسیٰ کی ٹیکس والی آمدنی 93 لاکھ 75ہزار روپے تھی ، لندن کی تینوں جائیدادوں کی قیمت 10 کروڑ 43 لاکھ روپے تھی۔ذرائع کے مطابق سرینہ عیسیٰ نے بھی ایف بی آر کی جانب سے 21 اگست کو بھیجے گئے خطوط کا جواب بھی جمع کرا دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سرینہ عیسیٰ کی جانب سے جواب میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر نے میری 2243 کنال زمین کی زرعی آمدن شامل نہیں کی، ایف بی آر نے کلفٹن کی جائیدادوں کی وصول آمدن بھی شمار نہیں کی۔ذرائع کے مطابق سرینہ عیسیٰ کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے میری

ملازمت کی آمدن کو بھی لندن جائیدادوں کی قیمت میں شامل نہیں کیا۔ذرائع کے مطابق سرینہ عیسی کا ایف بی آر کو جواب میں کہنا تھا کہ میری انکم ٹیکس ریٹرن کی تفصیلات بھی نہیں دی گئیں۔ذرائع کا کہنا ہے سرینہ عیسیٰ نے ایف بی آر کی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرے بیٹے ارسلان عیسی کی لیگل ٹیم نے وکالت سے بھی معذرت کر لی ہے۔سرینہ عیسی نے ایف بی آر کو اپنے جواب میں یہ بھی کہا ہے کہ ایف بی آر کی ٹیم میرے گوشواروں میں بھی ردبدل کر سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…