ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

اسرائیل سے امن معاہدے میں اماراتی عوام حکومت کے ساتھ نہیں، تہلکہ خیز انکشافات

datetime 26  اگست‬‮  2020 |

بیروت (این این آئی )متحدہ عرب امارات کے ایک سرکردہ دانشور اور اسرائیل سے تعلقات معمول پرلانے کی تحریک کے مخالف  کارکن احمد الشیبہ نے کہا ہے کہ اماراتی عوام ابو ظبی کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کے حامی نہیں ہیں۔ اگراماراتی عوام کو آزادانہ اظہار رائے کا حق حاصل ہوتا تو آپ دیکھتے کہ سڑکوں پر ہزاروں افراد اسرائیل کے ساتھ معاہدے کی مخالفت میں نکل کھڑے ہوتے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق الشیبہ نے مزید کہا کہ اماراتی عوام نے حکومت کا اسرائیل کے ساتھ طے پایا نام نہاد امن معاہدہ قبول نہیں کیا ہے۔ جہاں تک ان ویڈیوز کا تعلق ہے جن میں بہ ظایر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ اماراتی عوام اسرائیل کے ساتھ دوستی پر جشن منا رہے ہیں وہ جعلی ہیں۔ اماراتی عوام اس معاہدے کے نہ صرف مخالف ہیں بلکہ حقیقی معنوں میں انہیں سخت صدمہ پہنچا ہے۔ الشیبہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ دوستی پر جشن منانے والے یا تو اجرتی لوگ ہیں جنہوںنے پیسے لے کر ایسی کسی سرگرمی میںحصہ لیا ہے یا موجودہ مقتدار طبقے سے مراعات یافتہ ہیں۔ ایسے مٹھی بھر عناصربنیادی اصولوں اور انسانی اقدار کی قیمت پر اپنا ضمیر فروخت کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔انٹرویو میں انہوںنے کہا کہ حکومت اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے اعلان کو عوام میں مقبول بنانے کی کوشش کررہی ہے مگر حقیقی معنوں میں اماراتی عوام اسرائیل کے ساتھ کسی ڈیل کے حامی نہیں ہیں۔ اس وقت تک سپریم فیڈرل کونسل یا کسی اور ادارے کی طرف سے ایسی کوئی تقریب منعقد نہیں کی جس میں عوام کو بلایا گیا ہو۔الشیبہ کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ مزاحمتی محاذ کے قیام کا مقصد بالعموم تمام عرب اقوام بالخصوص اماراتی عوام میں بیداری پیدا کرنا  اور خلیجی ممالک کے عوام کو قضیہ فلسطین کے حوالے سے ان کی ذمہ داریاں یاد دلانا ہے۔انہوںنے کہا کی امارات اور اسرائیل کے درمیان گذشتہ 20 سال سے درپردہ تعلقات چلے آرہے ہیں۔ دونوںملکوں کیدرمیان حال ہی میں ہونے والا معاہدہ کئی سال کے رابطوں کا نتیجہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…