ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا کے 4خوش نصیب لوگوں میں ایک روضہ رسولؐ کے متولی احمد مسیبو کا انتقال ان کا خاندان گزشتہ کتنی صدیوں سے روضہ رسولؐ کی دیکھ بھال پر معمورہے؟ باقی 3 متولین کے بعد زمہ داری سنبھالنے والا نسل کا کوئی فرد باقی نہیں ہو گا

datetime 23  اگست‬‮  2020 |

مدینہ (مانیٹرنگ ڈیسک) روضہ رسول ﷺ کی دیکھ بھال اور صفائی ستھرائی کی سعادت بہت بڑی خوش نصیبی کی بات ہے، یہ سعادت دنیا کے صرف 4 افراد کو حاصل ہے، جن میں سے ایک احمد مسیبو گزشتہ روز انتقال کرگئے۔خانہ کعبہ کے کلیدبردار خاندان کی طرح روضہ رسولﷺ کی

صفائی اور دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی مخصوص علاقے سےتعلق رکھنے والے افراد کے پاس ہے، ان محترم شخصیات کا تعلق حبشہ سے جا ملتا ہے،،جو گزشتہ 8 صدیوں سے روضہ رسول ﷺاورمسجد نبویﷺ کی دیکھ بھال کی ذمہ داریوں کی سعادت سنبھالے ہوئے ہیں، روضہ رسول ﷺاور مسجد نبوی کے منبر کی چابیاں بھی اسی قبیلے کے افراد کے پاس ہیں۔ماضی میں متولی روضہ رسولﷺ کے فرائض میں 42 امور شامل تھے، لیکن اب ان کا کام صرف روضہ رسولﷺ پر آنے والی اہم شخصیات کا استقبال کرنا اور انہیں آب زمزم پیش کرنا ہے۔ روضہ رسولﷺکے متولین کی تعداد کسی دور میں ایک ہزارسے بھی زیادہ تک پہنچ گئی تھی جو اب کم ہو کر صرف چار تک رہ گئی ہے۔آخری چار متولین میں سے ایک احمد مسیبو بھی گزشتہ روز انتقال کرگئے، جن کی نماز جنازہ جمعہ کے روز نماز فجر کے بعد مسجد نبویﷺ میں ادا کی گئی، باقی آخری تین متولین بھی عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں کسی بھی وقت زندگی داغ مفارقت دے سکتی ہے۔ ان آخری خدام کے بعد اس ذمہ داری کو سنبھالنے والا اس نسل کا کوئی فرد باقی نہیں ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…