ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

شوہر کی بے انتہاء محبت سے تنگ خاتون طلاق لینے عدالت پہنچ گئی کیس دائر کرد،مقامی پنچایت کے عہدیدار بھی سرپکڑ کر بیٹھ گئے

datetime 23  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی خاتون اپنے شوہر کی بے پناہ محبت سے تنگ آکر عدالت پہنچ گئی ۔ طلاق لینے کیلئے مقدمہ درج کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی خاتون نے عدالتی موقف میں کہا ہے کہ اس کی شادی کو ڈیڑھ سال ہو گئے ہیں اس کا شوہر اس سے بے پناہ محبت کرتا ہے اور لڑتا جھگڑتا بالکل نہیں ہے ۔ گھر کے سارے کام کرتا ہے

اور اگر مجھے سے کوئی غلطی ہو جائے تو ڈانتا بھی نہیں ہے ۔ خاتون نے مزید کہا کہ اسکا شوہر اس سے بے حد محبت کرتا ہے۔ اس محبت آمیز رویہ سے وہ بیزار آگئی ہے اور ایسے ماحول میں اس کا دم گھٹتا ہے۔مجھے ایسی زندگی نہیں چاہئے جہاں میرے شوہر مجھ سے جھگڑا نہ کریں اور میری ہر غلطی کو نظرانداز کردیں۔جبکہ بھارتی شوہر کا کہنا تھا کہ میں اپنی بیوی کو کسی قسم کی تکلیف سے دور رکھنا چاہتاہوں بس میری یہ کوشش ہے کہ وہ خوشگوار زندگی گزارے ۔ میاں  بیوی کے مقدمے سے مقامی پنچایت بھی حیران رہ گئی ۔ قبل ازیں ایک ایسا ہی واقعہ شارجہ میں بھی پیش آیا تھاجس کے مطابق بیوی کو شوہر کی بے پناہ محبت نے بیزار کردیاتھا، طلاق لینے کیلئے عدالت پہنچ گئی تھی۔غیر ملکی میڈیا کےمطابق طلاق کی درخواست میں بیوی نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس کے شوہر نے اسے کبھی نہیں جھڑکا، نہ کوئی بات ٹالی ہے، اکثر کھانا بھی خود تیار کرتا ہے، صفائی سمیت دیگر کام بھی کر دیتا ہے، شوہر کی بے پناہ محبت سے وہ تنگ آگئی ہے، وہ چاہتی ہے کہ کسی دن اس کا شوہر اس کیساتھ جھگڑا کرے، مگر ناراضگی دکھانے پر جھگڑنے کے بجائے شوہر اس کیلئے تحفے لانا شروع کر دیتا ہے۔ اس طرح کی زندگی نہیں چاہتی ، اس لیے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے۔اپنے بیان میں شوہر نے عدالت کو بتایا کہ وہ خود کو ایک مہربان شوہر دیکھنا چاہتا ہے اس لیے کسی بات پر جھگڑا نہیں کرتا ۔شوہر نے عدالت سے استدعا کی کہ اس کی بیوی کو درخواست واپس لینے کی ہدایت کرے،عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے جوڑے کو مصالحت کی ہدایت کردی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…