اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

ن لیگ حکومت کو 5 سالہ دور کا حساب دینے کو تیار، حیرت انگیز مطالبہ بھی کر دیا

datetime 20  اگست‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)مسلم لیگ(ن)سندھ کے جنرل سیکرٹری اور سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے حکومت کو ن لیگ کے 5 سالہ دور کا حساب دینے کی پیشکش کرتے ہوئے کہاہے کہ خان صاحب اپنے دور کی بھی تحقیقات کرائیں، مسلم لیگ(ن)نے جب حکومت چھوڑی تو قومی انکم بڑھ رہی تھی، پی ٹی آئی نے پہلے ہی سال قومی انکم کو کم کیا اور اس سال تو منفی کردیا ہے, 2سالوں میں گیس کی قیمتیں دگنی ہوگئی،

گردشی قرضے 22 سو ارب روپے کے ہوچکے ہیں۔کراچی کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔اس کی قانون اور آئین میں بنانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔وہ بدھ کوکراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔اس موقع پر سابق گورنر سندھ محمد زبیر اور دیگر بھی موجود تھے ۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آپ ہم سے چاہیں تو حساب لے لیں، ن لیگ کے 5 سال کا حساب دینے کے لیے تیار ہوں ہم مہنگائی 3 اعشاریہ 9 فیصد پر چھوڑ گئے تھے جو اب 12 تک چلی گئی ہے، کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں مسلسل بڑھتی جارہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ آٹا ہماری حکومت میں 35 روپے کلو تھا جو آج 70 روپے سے زیادہ کا مل رہا ہے جبکہ مختلف اشیا کی قیمتیں سو گنا بڑھ چکی ہیں۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت تو ہر الزام مافیا کے اوپر ڈال دیتی ہے لیکن سب سے زیادہ نقصان غریب کا ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جس بنیاد پر چینی ایکسپورٹ کی وہ اعداد و شمار ہی غلط تھے، حکومت نے مشینری امپورٹ کم کرکے ملکی معیشت کو سست کردیا۔مسلم لیگی رہنما نے کہا کہ ایک طرف ہماری حکومت نے 5 سال میں10ہزار ارب روپے کا قرض لیا، دوسری طرف تحریک انصاف 2 سال میں11ہزار ارب روپے کا قرض لیا۔انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی دور میں سب سے بڑی ناکامی ٹیکس جمع نہ کرکے ہوئی، حکومت ایف بی آر کے 5 چیئرمین تبدیل کرچکی ہے، کیوں؟ یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ بجلی کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے دیگر قیمتیں بھی بڑھ گئیں، کراچی میں ظالمانہ لوڈشیڈنگ کی گئی جبکہ اس حکومت نے پورے ملک میں لوڈشیڈنگ شروع کردی۔انہوںنے کہا کہ کورونا سے پاکستان میں معاشی سرگرمیاں کم نہیں ہوئی تھی۔اشیا خوردونوش نوش کی قیمتوں میں بہت اضافہ ہوا ہے۔غریب طبقہ کو سب زیادہ مہنگائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوںنے کہا کہ جب ہم نے حکومت چھوڑی تھی تو آٹے کی قیمت

35 روپے فی کلو تھی اب آٹا 70 روپے کلو میں بھی نہیں ملتا ہے۔چینی قیمت 53سے 55 روپے تھی۔اب سو روپے سے بڑھ گئی ہے۔کوئی بھی خان صاحب کی نیت پر چینی سستی نہیں دے گا۔آٹے کا بحران بھی ان کی حکومت میں آیا ہے۔یہ اگر ایک کروڑ نوکریاں دینے کا کہیں گے تو لوگ بے روزگار ہو جائیں گے۔ابھی کہہ رہے ہیں کہ عثمان بزدار کام سیکھ رہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ ہم نے دس ہزار ارب کا قرض لیا۔دو سال میں پی ٹی آئی نے 11ارب سے

زائد کا قرضہ لیا ہے۔ہمارے دور میں بہت کام ہوئے ہیں ۔آپ ہم سے حساب لے سکتے ہیں۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ انہوں امپورٹ کم کی ہے۔ایکسپورٹ نہیں بڑھائی ہے۔اگر امپورٹ بڑھائی ہے تو کراچی پورٹ پرتالہ لگا دیں۔امپورٹ صرف مشینری کی کم کی ہے۔ایک روپے ایکسپورٹ نہیں بڑھایا ہے۔گیس کو ڈبل کردیا ہے ۔50سے 70 فیصد بجلی کے نرخ بڑھائے۔22سو ارب کا سر کلر ڈیڈ ہوگیا ہے ۔انہوںنے کہا کہ کراچی میں ظالمانہ لوڈشیڈنگ ہوئی تھی۔

ہم سستے بجلی پلانٹ لگائے تھے۔انہوںنے کہا کہ تا نہیں ان کی کیا کامیابی ہے۔ہم نے گذارش کی تھی کہ سود کے ریٹ کم کریں۔فرنس آئل ایل این جی سے آدھا ہوتا ہے۔ایل این جی فرنس آئل کے مقابلے میں ڈبل ایل این جی بناتا ہے۔انہوںنے کہا کہ پی آئی اے یورپ نہیں جا سکتی ہے۔غلام سرور خان کو کوئی نقصان نہیں ہوا لیکن ایوای ایشن کو تباہ کردیا۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ میں پانچ مہینے وزیر خزانہ رہا ہوں اور پانچ مہینے جیل کاٹی ہے۔نیب سے خوفززدہ نہیں ہیں۔حکومت کی نالائقی کا ذمہ دار ہمیں نہ ٹھرایا جائے۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ کراچی کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔اس کی قانون اور آئین میں بنانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔پیپلزپارٹی نے کراچی میں مقامی حکومتوں کو چلنے دیا لیکن پنجاب میں لوکل گورنمنٹ کو نہیں چلنے دیا گیا ۔کراچی میں جب تک مقامی سطح پر اختیارات نہیں دیئے جائیںگے مسائل حل نہیں ہوںگے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…