اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

شریف فیملی کے چیف فنانشل آفیسر محمد عثمان نے منی لانڈرنگ کا اعتراف کرلیا سلمان شہباز نے 600ملین کی غیر ملکی جعلی ترسیلات کیں ، پیسہ کہاں سے آتا ؟ تہلکہ خیز انکشافات‎‎

datetime 19  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی احتساب بیورو (نیب) نے شریف فیملی کے چیف فنانشل آفیسر محمد عثمان سے اب تک ہونے والی تحقیقات کی رپورٹ جاری کردی۔ رپورٹ کے مطابق ملزم محمد عثمان نے شہباز شریف فیملی کے لیے منی لانڈرنگ کی، ملزم محمد عثمان نے 2005 میں رمضان شوگر مل میں 90 ہزار ماہانہ پر نوکری شروع کی۔نجی ٹی وی کے مطابق

نیب رپورٹ میں کہا گیا کہ 2006 میں نواز شریف فیملی نے شہباز شریف فیملی سے حدیبیہ انجینئرنگ مل لے لی، پھر 2007 میں شہباز شریف فیملی نے اپنے بزنس کو بڑھانے کے لیے شریف فیڈ مل سمیت دیگر کمپنیاں بنائیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ نئی کمپنیز بنانے کے لیے محمد عثمان سے فنڈز سے متعلق سوالات کیے گئے جس پر محمد عثمان نے بتایا کہ نئی کمپنیز کے لیے غیر ملکی ترسیلات اور قرضہ جات کے ذرائع بنائے گئے، غیر ملکی ترسیلات اور قرضہ جات کے لیے نصرت شہباز اور ان کے بیٹوں کے بینک اکاؤنٹس استعمال کیے گئے اور 2007 سے قبل غیر ملکی ترسیلات کو حمزہ شہباز مینج کرتے تھے۔نیب رپورٹ کے مطابق محمد عثمان سے شہباز شریف کے لیے منی لانڈرنگ سے متعلق سوالات بھی کیے گئے جس پر محمد عثمان نے بیان دیا ہے کہ سب کچھ سلیمان شہباز کے کہنے پر کرتا تھا، سلیمان شہباز کے کہنے پر وقار ٹریڈنگ کمپنی نے 600 ملین کی جعلی غیر ملکی ترسیلات کیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ساری رقم چیک کے ذریعے سلیمان شہباز کے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی تاہم محمد عثمان نے بیان دیا کہ سلیمان شہباز کے پاس پیسہ کہاں سے آتا ہے، اس کا انہیں معلوم نہیں۔نیب رپورٹ میں کہا گیا کہ بے نامی اکاؤنٹس سے متعلق ملزم محمد عثمان سے تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…