پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا  کسی نے کوشش کی تو اٹھا کر پھینک دیا جائے گا یہ قائداعظم اور اقبال کا ملک ہے، عرب امارات، اومان ، مصر اور بحرین نہیں ، دھماکہ خیز اعلان 

datetime 18  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)نہیں،پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا۔کسی نے کوشش کی تو اٹھا کر پھینک دیا جائے گا۔ یہ قائدِ اعظم اور اقبال کا ملک ہے۔سینئرکالم نگار ہارون الرشید اپنے کالم میں لکھتے ہیںکہ ۔۔۔ متحدہ عرب امارات، اومان، مصر اور بحرین نہیں۔اس ملک میں

درجنوں ٹی وی چینل اور سینکڑوں اخبارات ہیں۔ اس کی مساجد میں سرکاری خطبے نہیں پڑھے جاتے۔ اپوزیشن لیڈروں سے زیادہ،بشرطیکہ وہ پرلے درجے کے کرپٹ نہ ہوں،اکثر حکومت زیادہ دباؤ کا شکار رہتی ہے۔ جلسے جلوسوں کی آزادی ہے۔ بار بار کیے جانے والے سروے ظاہر کرتے ہیں کہ لوگ شرعی قوانین چاہتے ہیں۔تحریک خلافت سے اب تک، عوامی تحریکوں کی مسلم برصغیر ایک شاندار تاریخ رکھتا ہے۔ جب ایک قادیانی کو درجنوں افراد پر مشتمل سرکاری معاشی کمیٹی کا ممبر بنایا گیا تو عرض کیا تھا کہ چند دن میں اسے فارغ کرنا پڑے گا۔ عمران خان بنیادی طور پر ایک سیاستدان کا مزاج رکھتے تو قطعیت کے ساتھ اب تک یہ اعلان کر چکے ہوتے کہ پاکستان کبھی اس ناجائز ریاست کو تسلیم نہیں کرے گا۔ صرف پاکستانی عوام ہی میں ان کی توقیر نہ بڑھتی بلکہ پورے عالمِ اسلام میں۔بوسنیا سے فلسطین اور مراکش سے ملائیشیا تک۔ حکومتی ذمہ داریاں احتیاط کو مائل کرتی ہیں۔ امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق کے سوا اپوزیشن لیڈر بھی خاموش ہیں یا ضرورت سے زیادہ نرم لہجے میں مخالفت پر آمادہ۔ الطاف حسین سے اللہ نے ہمیں نجات دی۔ اگر وہ بروئے کار ہوتے تو شاید صیہونیوں کی تائید کرتے۔ انگریز کی کاشت کردہ قادیانیت کی طرح، وہ بھارت، برطانیہ اور امریکی خفیہ ایجنسیوں کی پیداوار ہیں، بنیادی طور پر بھارت کی۔ ذہنیت مسخ ہو جائے تو آدمی ردّعمل میں جیتا ہے۔

زندگی بسر نہیں کرتا بلکہ زندگی اسے بسر کرتی ہے۔ اے این پی کے سیکرٹری اطلاعات میاں افتخار حسین نے بالواسطہ طور پرامارات کے اقدام کو سراہا۔ اے این پی کی تاریخ یہی ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں ہمیشہ انہوں نے بھارت، سوویت یونین اور امریکی پالیسیوں کی تائید کی۔ سب سے بڑھ کر ذہنی طور پر مرعوب کچھ اخبار نویس۔ زندگی کی بنیادی صداقتوں اور تاریخی فیصلوں کے مضمرات کا ادراک نہ رکھنے والے۔ قوانینِ قدرت پر غور کرنے کی جو کبھی فرصت نہیں پاتے۔ جو زمانے کی رو میں بہتے ہیں اور اپنی آنکھ سے زندگی کو نہیں دیکھتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…