اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

نجی پاور کمپنیوں نے39 ارب روپے لوٹ لئے،وزارت پاور خاموش، کس کس نے اس گنگا میں ہاتھ دھوئے، دستاویزات میں انکشاف

datetime 16  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)حکومت کی دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ28 نجی پاور کمپنیوں میں سے5پاور کمپنیوں نے ایک سال میں 39ارب روپے کا فراڈ کیا ہے اور 39 ارب روپے وزارت پاور کے حکام سے ملی بھگت کرکے لوٹنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔5پاور کمپنیوں نے حکومت کو بھی پیداوار،فیول کے اخراجات،فنانس اخراجات وغیرہ بارے غلط رپورٹ دیکر39ارب روپے کا فراڈ کیا ہے۔دستاویزات کے مطابق

منشاء پاور کمپنی نے7ارب11کروڑ روپے کا فراڈ کیا ہے جبکہ نشاط چونیاں نے 7ارب81کروڑ روپے کی دھوکہ بازی کی ہے،یہ دونوں کمپنیاں ایم سی بی بینک کے مالک اور سابق وزیراعظم نوازشریف کے قریبی دوست میاں منشاء کی ملکیتی ہیں۔اس کے علاوہ اٹک جن نے بھی11ارب روپے کا فراڈ کیا ہے،لبرٹی پاور کمپنی نے9ارب 24کروڑ روپے جبکہ اٹلس پاور نامی کمپنی کے مالک نے3ارب79کروڑ روپے کا فراڈ کیا ہے۔39 ارب روپے کی ریکوری کے لئے متعلقہ حکام کو سخت ہدایات دی گئی ہیں لیکن ابھی تک افسران نے ان کمپنیوں سے ایک پائی بھی وصول نہیں کی اور یہ39ارب روپے قوم کے ان کمپنیوں نے ہضم کرلئے ہیں۔حکومت نے ان کمپنیوں کو(پی ایل اے سی) کی مد میں اربوں روپے کی ادائیگی کردی ہے حالانکہ یہ شق معاہدے میں شامل بھی نہیں تھی۔رپورٹ کے مطابق نیپرا نے بھی اپنی ذمہ داری سے کوتاہی برتتے ہوئے ان کمپنیوں کے ہیٹ ریٹ کا جائزہ نہیں لیا حالانکہ معاہدے کے مطابق یہ اختیار صرف نیپرا کے پاس تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان کمپنیوں نے5حربوں سے39ارب لوٹے ہیں،ان میں منصوبہ کی لاگت بارے غلط بیانی کرکے اربوں روپے لوٹے ہیں جبکہ پارٹل لوڈنگ کے نام پر غلط اعداد وشمار دے کر لوٹ مار مچائی گئی ہے جبکہ ٹیکس فری منافع حاصل کیا گیا،ان حالات کے پیش نظر وزیراعظم نے تمام28نجی پاور کمپنیوں کے معاہدے از سر نو تشکیل دئیے ہیں جس سے عوام کو سستی بجلی اور سالانہ400ارب کی بچث بھی ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…