اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس۔۔۔لاک ڈائون پاکستان کی علاقائی ممالک کو برآمدات میں نمایاں کمی

datetime 16  اگست‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)مارچ میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کے سبب پاکستان کی علاقائی ممالک کو برآمدات میں سال 2019 کے مقابلے میں 24 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔اسٹیٹ بینک کے مرتب کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق خطے میں افغانستان، چین، بنگلہ دیش، سری لنکا، ہندوستان، ایران، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کو برآمدات گزشتہ سال 4.658 ارب ڈالر کے

مقابلے میں مالی سال 20 میں 3.738 ارب ڈالر رہ گئیں۔ایک سال کے دوران خطے کے ساتھ تجارتی خسارہ کم ہوا کیونکہ ان ممالک سے درآمدات میں بھی کمی آئی۔افغانستان کے ساتھ برآمدات گزشتہ چند سالوں سے مستقل زوال کا شکار ہے جس کی وجہ کابل کے ساتھ خراب تعلقات اور متعدد سرحدوں کی بندشیں ہیں، شمال مغربی ہمسایہ ملک کو پاکستان کی برآمدات مالی سال 20 میں 88.913 ملین ڈالر رہ گئیں ، جو مالی سال 19 میں 1.192 ارب ڈالر تھیں اور اس کا مطلب یہ ہوا کہ 25.5فیصد کی کمی آئی ہے۔کچھ سال پہلے امریکا کے بعد افغانستان دوسری بڑی برآمدات کی منزل تھا، اسی اثنا میں ملک سے درآمدات بھی مالی سال 20 میں 28.5 فیصد کی کمی سے 121.832ملین رہ گئیں جو 19ـ2018 میں 170.478 ملین ڈالر تھیں۔چین کو بھی پاکستان کی برآمدات مالی سال 20 میں 10.5 فیصد کم ہوکر 1.663 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال 1.858 ارب ڈالر تھیں، آمدنی میں کمی اس وقت بھی نوٹ کی گئی حالانکہ وزارت تجارت نے بیجنگ کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کے تحت مقامی مصنوعات کے لیے ترجیحی مارکیٹ تک رسائی کا دعویٰ کیا ہے، مالی سال 20 میں چین سے درآمدات 9.544 ارب ڈالر ہو گئیں جو گزشتہ سال 10.164 ارب ڈالر تھیں جو 6فیصد کمی کی نمائندگی کرتی ہیں۔مالی سال 20 میں بھارت کو برآمدات 90.8فیصد کمی کے ساتھ 28.644 ملین ڈالر پر

آ گئی جہاں مالی سال 19 میں یہ 311.958 ملین ڈالر تھی، حکومت نے پچھلے سال نئی دہلی کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل کردیے تھے تاہم معطلی کے باوجدو وزارت تجارت ہندوستان کو برآمدات کے بارے میں ابھی تک واضح نہیں کیا۔مالی سال 20 میں ہندوستان سے درآمدات 374.86 ملین ڈالر ہوگئیں جو مالی سال 19 میں 1.595 ارب ڈالر تھیں، نئی دہلی کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل ہونے کے

باوجود حکومت نے مشرقی ہمسایہ ملک سے دوائیوں کے لیے خام مال کی درآمدات کی اجازت دے دی ہے۔مالی سال 20 میں ایران کو برآمدات کی مالیت 0.055 ملین ڈالر پر آ گئی ہے جو 2.942 ملین ڈالر تھی جبکہ اس وقت ملک 0.048 ملین ڈالر پر ہے جو ایک سال قبل بالکل بھی نہیں تھی، ایران کے ساتھ زیادہ تر تجارت سرحدی علاقوں میں غیر رسمی چینل کے ذریعے کی جاتی ہے۔بنگلہ دیش کو

برآمدات مالی سال 20 میں 744.720 ملین ڈالر سے کم ہوکر 694.124 ملین ڈالر ہوگئیں جو 6.79pc کی کمی کا اشارہ کرتی ہیں، اسلام آباد حال ہی میں دونوں ممالک کے مابین تجارت کو مزید آسان بنانے کے لیے بات چیت کو بحال کرنے کے لیے ڈھاکا پہنچ گیا ہے۔اسی طرح سری لنکا کو برآمدات مالی سال 20 میں 5.49pc اضافے سے 287.941 ملین ڈالر ہوگئیں جو پچھلے سال کے 303.761 ملین ڈالر تھیں،

اسلام آباد نے کولمبو کے ساتھ پہلی بار ایف ٹی اے پر دستخط کیے ہیں لیکن دونوں ممالک کے درمیان تجارت حقیقی صلاحیت سے بہت پیچھے ہے۔دوسری جانب نیپال کو برآمدات میں 86.7pc کا اضافہ ہوا جب وہ مالی سال 20 میں 21.679 ملین تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال 2.872 ملین تھی جبکہ مالدیپ جانے والوں کی مالیت 6.32ملین سے 37.36pc اضافے کے ساتھ 8.478 ملین ڈالر ہوگئی تھی، بھوٹان کو برآمدات مالی سال 20 میں 60.8pc کمی کے بعد 94ملین تک آ گئی جو 19ـ2018 میں 240 ملین ڈالر تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…