اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

یوم آزادی پرپاکستانیوںکی جذبہ حب الوطنی کی انوکھی مثال کرونا کے باوجود 25 ارب کی خریداری کا ریکارڈ قائم کردیا

datetime 15  اگست‬‮  2020 |

کراچی( این این آئی) یوم آزادی پرپاکستانیوں نے جذبہ حب الوطنی کی انوکھی مثال قائم کردی، کرونا سے متاثرہ معیشت عوام کے دلوں سے ملک کی محبت کا جوش کم نہ کرسکی، کراچی کے شہریوں نے ملک کے 73ویں یومِ آزادی پر 25 ارب روپے کی خریداری کا ریکارڈ قائم کردیا، لائن آف کنٹرول پر جارحیت اور کشمیری مسلمانوں کے خلاف بڑھتے بھارتی مظالم سے پاکستانی عوام میں وطن کی محبت کا جوش و خروش کئی گنا بڑھ گیا۔

پاکستان کا بچہ بچہ حب الوطنی سے سرشار اور جشن آزادی کی بہار لوٹنے میں مگن رہا، تاجروں اور عوام نے بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے بھارتی حکومت کے منفی رویئے سے شدید نفرت کا اظہار کیا، آ ل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے یومِ آزادی پر عوام کے جوش و خروش اور جذبہِ حب الوطنی کو بیمثال اور لازوال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کے شہریوں نے وطن، قوم، افواجِ پاکستان، آئی ایس آئی اور رینجرز سے، عقیدت،محبت اور اظہارِ یکجہتی کی نئی تاریخ رقم کردی ہے، بیشتر نوجوانوں نے عید پر نیا سوٹ سلوانے کے بجائے ملک سے اظہار یکجہتی کے طور پر سبز ہلالی پرچم کی ٹی شرٹس اور ٹرائوزر زیب تن کیا، عتیق میر نے کہا کہ 14اگست سے قبل ہی یوم آزادی کی تقریبات اور جشن کی گہما گہمی شروع ہوچکی تھی، شہرِ قائد قومی پرچموں، برقی قمقموں، رنگین جھالروں اور جھنڈیوں سے جگمگاتا رہا، شہر میں ہر جانب قومی اور ملیّ نغموں کی گونج سنائی دیتی رہی، رواں سال عوام میں جشنِ آزادی کا روائتی جوش وخروش اور ولولہ ماضی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ نظر آیا، جشن آزادی پر سیر و تفریح کیلئے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ صرف ایک ماہ میں تین لاکھ موٹرسائیکلوں کی فروخت کا ریکارڈ اور بھاری مقدار میں پیٹرولیم مصنوعات فروخت ہوئیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ یہ بات انتہائی خوش آئیند ہے کہ قوم کا ملک اور فوج سے عشق جنون کی حد تک بڑھ رہا ہے جو کہ دشنمنانِ پاکستان کو کھلا پیغام ہے کہ جس ملک کا بچہ بچہ مجاہد ہو اسے تر نوالہ سمجھنے کی غلطی نہ کرے، انھوں نے کہا کہ 73ویں یومِ آزادی پر مارکیٹوں میں سجاوٹ، کیک کاٹنے ، پرچم کشائی اور آتشبازی کی لاتعداد تقاریب منعقد کی گئیں جن کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی، گلی گلی قومی پرچموں کی فروخت کے اسٹالز لگائے گئے، جشن آزادی پر مقامی بازار چین سے درآمد شدہ اور پاکستانی سامان کی بہت بڑی مارکیٹ میں تبدیل ہوگیا۔

جس میں 70فیصد درآمدی اور30فیصد مقامی سامان کا حصہ رہا، بازاروں میں جھنڈے، ٹی شرٹس، بیجز، کیپس، غبارے، چوڑیاں، ماسک، جھنڈیاں، کانوں کے بندے، بنیانیں، خواتین، بچوں اور نوجوانوں کے سبز ہلالی ریڈی میڈ گارمنٹس، دوپٹے، ملّی نغموں کی سی ڈیز، آتشبازی کا سامان، فیس پینٹنگ ، بچوں کی عینکیں، کڑے اور دیگر اشیاء کی بھرپور خریداری کی گئی، آزادی کی خوشی میں رواں سال بھی ملّی نغموں پر مشتمل موسیقی کے پروگرام اور قومی پرچم لہرانے کی ہزاروںتقریبات منعقد کی گئیں،بسوں، رکشوں، ٹرکوں اور موٹر سائیکلوں پر جھنڈے لہرائے گئے ،بیشتر مقامات پر دعوتوں کا اہتمام، مٹھائی تقسیم اور آزادی کی سالگرہ کے کیک بھی کاٹے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…