اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

روزگار سکیم کے تحت مختلف بینکوں کی طرف سے 125.9 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری

datetime 13  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد ( آن لائن )سٹیٹ بینک آف پاکستان کی روزگار سکیم کے تحت مختلف بینکوں نے 125.9 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دی ہے جس سے 12 لاکھ سے زیادہ کارکنوں کو تنخواہیں ادا کی جا سکیں گی۔ سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق روزگار سکیم کا مقصد صنعتی و کاروباری اداروں میں کام کرنے والے کارکنوں کو کووڈ۔19 کے منفی اثرات سے تحفظ کے ساتھ ساتھ ان کے روزگار کو محفوظ بنا کر بے روزگاری سے بچانا ہے۔

ایس بی پی کے مطابق 10 جولائی 2020 تک مختلف بینکوں کی جانب سے 2068 اداروں کی جانب سے روزگار سکیم کے تحت قرضہ کے حصول کی درخواستوں کی منظوری دی گئی ہے اور منظور کئے گئے قرضہ جات کی کل مالیت 125.9 ارب روپے ہے جس سے ان اداروں کے 12 لاکھ سے زیادہ کارکنوں کو تنخوہیں ادا کی جائیں گی۔روزگار سکیم کے آغاز کے بعد بڑی تعداد میں کاروباری و صنعتی اداروں نے قرضہ حاصل کرنے کے لئے اپلائی کیا تھا اور سٹیٹ بینک کی کاوشوں سے قرضوں کی فراہمی کے عمل میں تیزی لائی گئی۔آغاز میں قرض منظوری کا عمل سست تھا اور اپریل 2020 کے اختتام تک صرف 18 فیصد درخواستوں کی منظوری دی جا سکی تھی تاہم ایس بی پی کے اقدامات سے 10 جولائی 2020 تک روزگار سکیم کے تحت قرض حاصل کرنے کی کل درخواستوں کے 76 فیصد کے مساوی درخواستوں کی منظوری ہو چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق منظور کئے گئے مجموعی قرضوں میں سے 31 ارب روپے کے قرضہ جات 1449 ایس ایم ایز اور چھوٹے کاروباری اداروں کو فراہم کئے جا رہے ہیں جس سے 2 لاکھ 80 ہزار 437 کارکنوں کے روزگار کو تحفظ حاصل ہو گا۔ رپورٹ کے مطابق جے ایس بینک، حبیب بینک، بینک الحبیب، بینک الفلاح اور عسکری بینک روزگار سکیم کے تحت قرضوں کی فراہمی اور درخواستوں کی منظوری کے حوالہ سے سب سے نمایاں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…