منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

چھ سال گزر گئے نیب سحر کامران کی کرپشن کیخلاف انکوائری مکمل کرنے میں ناکام، سابق سینیٹر نے کس کا کندھا استعمال کرتے ہوئے انکوائری کو آگے بڑھنے سے روکا، حیرت انگیز انکشاف

datetime 8  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (آن لائن) چھ سال گزرنے کے باوجود قومی احتساب بیورو پیپلزپارٹی کی سابق سینیٹر سحر کامران کی کرپشن کیخلاف انکوائری مکمل کرنے میں ناکام ہوگیا۔ سابق سینیٹر نے سیاسی اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے وزارت خارجہ اور وزارت سمندر پار پاکستانی امور میں بھی اپنے خلاف انکوائری رکوالی۔ ذرائع کے مطابق اٹھائیس اکتوبر 2014ء کو قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ نے سینیٹر سحر کامران

کیخلاف انکوائری کی منظوری دی تھی کہ انہوں نے بطور پرنسپل پاکستان انٹرنیشنل سکول جدہ نہ صرف سکول فنڈز میں گھپلے کئے بلکہ طلبہ سے فیس کی شکل میں فنڈز اکٹھا کرنے میں بھی ملوث پائی گئیں جس پر ایگزیکٹو بورڈ نے ان کیخلاف کارروائی کی منظوری دی اور وزارت خارجہ اوروزارت سمندر پار پاکستانی امور سے کہا گیا کہ وہ اس حوالے سے نیب سے تعاون کریں اور سینیٹر سحر کامران کیخلاف تمام ریکارڈ فراہم کیا جائے کیونکہ اس کیس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ انہوں نے سکول فیس کی مد میں بے قاعدگیاں کی ہیں۔ نیب نے یکم جولائی 2015ء کو وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر گلف ریجن طارق وزیر کو ایک خط بھی لکھا جس میں سینیٹر سحر کامران کیخلاف انکوائری کو آگے بڑھانے کیلئے تفصیلات مانگی گئیں ان کی تنخواہ اور مراعات ٹی اے ڈی اے پرتعیش اشیاء کی خریداری، ٹیلی فون موبائل فیکس کے اخراجات یوٹیلٹی چارجز، تقرری کا خط، اثاثوں کی خریداری، لیزنگ ایگریمنٹ اور دیگر خریداریوں سے متعلق جواب مانگا گیا۔ ان کی تقرری کے حوالے سے بھی مجاز اتھارٹی کی منظوری اور بھرتی پالیسی مانگی گئی تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ سینیٹر سحر کامران نے اس معاملے میں اس وقت کے چیئرمین سینٹ رضا ربانی کاکندھا استعمال کیا اور اپنے خلاف نیب میں ہونے والی انکوائری کو آگے نہیں بڑھنے دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چھ سال ہوگئے ہیں نیب نے ابھی تک انکوائری مکمل نہیں کی جبکہ جو ریکارڈ وزارت خارجہ اور وزارت اوورسیز پاکستانی نے فراہم کرنا تھا وہ بھی نہیں کیاگیا اس حوالے سے جب سابق سینیٹر سحر کامران سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس معاملے پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…