جمعرات‬‮ ، 16 اپریل‬‮ 2026 

درآمدی خام مال پر ٹیکسوں کی بھرمار،کپڑے کی صنعت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی، تاجروں کی وزیراعظم سے دُہائی

datetime 6  اگست‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( ایف پی سی سی آئی ) کی قائمہ کمیٹی برائے درآمدات کے چیئرمین ، یارن ٹریڈ کمیٹی کے کنوینراور سابق چیئرمین پاکستان یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن ( پائما)خاور نورانی نے وزیراعظم عمران خان سے کپڑا بنانے والی صنعتوں کو تباہی سے بچانے کی اپیل کرتے ہوئے پولیسٹر اسپن یارن پر 2فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کے نفاذکا فیصلہ واپس لینے کی درخواست کی ہے

اور خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر کرونا سے پیدا ہونی والے سنگین معاشی بحرانوں سے نمٹنے میں مدد فراہم نہ کی گئی تو کپڑے کی صنعت تباہ ہوجائے گی اور کپڑے کے تاجروصنعتکار دیوالیہ ہوجائیں گے۔خاور نورانی نے وزیراعظم سے اپیل میں کہا کہ کپڑا بنانے کی صنعتوں کو بلارکاوٹ پیداواری سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے درآمدی پولیسٹر اسپن یارن (5509-2100، 5509-5100)پر انحصار کرنا پڑتا ہے کیونکہ مقامی مینوفیکچررز صنعتوں کو طلب کے مطابق خام مال فراہم کرنے سے قاصر ہیں اور آج بھی مقامی صنعت کھپت کا تقریباً30سے35فیصد یارن بناتی ہے جبکہ 65سے70فیصد مال درآمد ہوتا ہے اس کے باوجود یارن کے مقامی مینوفیکچررز نے اجارہ داری قائم کی ہوئی ہے او ر حکومتی نگرانی نہ ہونے کا بھرپورفائدہ اٹھاتے ہوئے یارن کے من مانے نرخ مقرر کر کے خوب منافع کمار ہے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ حکومت نے یارن کے مقامی مینوفیکچرر ز کو فوائدپہنچانے کے لیے پوری کپڑے کی صنعت کوداؤ پر لگا دیا ہے کیونکہ درآمدی خام پر ٹیکسوں کی بھرمار کا مقامی مینوفیکچررز بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔خام مال پربے تحاشا ٹیکسوں کی وجہ سے کپڑے کی مقامی صنعت کو بہت زیادہ نقصانات کا سامنا ہے حالانکہ کرونا کی وجہ سے کپڑے کی صنعت پہلے ہی شدید بحران کا شکار ہے اور اب پولیسٹر اسپن یارن پر 2فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہونے کی صورت میںیہ صنعت مکمل طور پرتباہ ہو جائے گی۔خاور نورانی نے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی کہ پولیسٹر اسپن یارن پر 2فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد نہ کی جائے اورکپڑا بنانے کی مقامی صنعت کو ڈوبنے سے بچایا جائے بصورت دیگر زائد ٹیکسوں اور اس کے نتیجے میں پیداواری لاگت حد سے زیادہ بڑھنے سے کپڑے کی فیکٹریاں بند ہونے کی صورت میںہزاروں ورکرز بے روزگار ہوجائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…