منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

بیروت دھماکے میں پاکستانی سفارتخانے کو بھی نقصان پہنچا معلومات کے لیے ہاٹ لائن نمبر جاری

datetime 5  اگست‬‮  2020 |

بیروت (این این آئی)لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والے دھماکے سے پاکستانی سفارتخانے کو بھی معمولی نقصان پہنچا ہے۔گزشتہ روز بیروت کی بندرگاہ پر اسلحے کے گودام میں دھماکوں کے نتیجے میں 95 افراد ہلاک اورتقریباً 3000 افراد زخمی ہیں۔

ہلاک افراد میں لبنان کی خطیب پارٹی کے سیکرٹری جنرل نذر نجارائن بھی شامل ہیں جب کہ درجنوں زخمیوں کی حالت نازک ہے جس کے سبب اموات کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق دھماکے اس قدر شدید تھے کہ 24 کلومیٹر دور تک عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔نجی ٹی وی کے مطابق بیروت میں مقیم پاکستانی سفارتی حکام سے رابطہ کیا گیاتو انہوں نے بتایا کہ پاکستانی سفارتخانہ دھماکے کے مقام سے 8کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، دھماکے سے سفارتخانے کے ایک حصے کو بھی معمولی نقصان پہنچا ہے۔سفارتی حکام کے مطابق دھماکے سے ایک پاکستانی شہری کے معمولی زخمی ہونے کی اطلاع ہے جو بلڈنگ کا شیشہ ٹوٹ کر گرنے سے زخمی ہوا ہے۔سفارتی حکام نے بتایا کہ بیروت میں 600 کے قریب پاکستانی مقیم ہیں، زیادہ تر پاکستانی بیروت کے پہاڑی علاقوں میں رہائش پذیر ہیں اور یہ جن علاقوں میں رہائش پذیر ہے وہ بندرگاہ سے 35 کلومیٹرکے فاصلے پر ہے۔سفارتی حکام کے مطابق بیروت میں مقیم پاکستانیوں سے رابطے میں ہیں اور پاکستانی سفارتخانے نے معلومات کے لیے ہاٹ لائن نمبر بھی 0096176866609 جاری کردیا ہے۔سفارتی حکام کے مطابق بیروت دھماکے میں ریڈکراس کے کنٹری ہیڈ عطا درانی معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…