بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک بچہ سیسے کے زہریلے اثرات کا شکار، متاثرہ بچوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان تشویشناک پوزیشن پرموجود

datetime 31  جولائی  2020 |

اسلام آباد /لندن (این این آئی)لیڈ یا سیسے کے زہریلے اثرات کے بارے میں عالمی سطح پر ایک نئی تحقیق کے مطابق سیسے سے متاثر بچوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پر جبکہ انڈیا پہلے نمبر پر ہے۔یہ رپورٹ بچوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف اور پیور ارتھ نامی ادارے نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے۔رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک بچہ سیسے کے

زہریلے اثرات کا شکار ہے جس سے ان کی صحت کو ناقابلِ علاج نقصان پہنچ سکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 80 کروڑ بچے سیسے سے متاثر ہیں جن کی زیادہ تعداد ترقی پذیر ممالک میں ہے۔ اس سے پہلے اس مسئلے کو اتنے بڑے پیمانے پر نہیں دیکھا گیا۔سیسے سے متاثر بچوں کی عالمی تعداد کا لگ بھگ نصف جنوبی ایشیا میں ہے جبکہ پاکستان میں ایسے بچوں کی تعداد چار کروڑ دس لاکھ سے زیادہ ہے۔اس رپورٹ میں یونیورسٹی آف واشنگٹن کے انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایویلوویشن کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا ہے۔سیسے کے زہریلے اثرات بچوں کے دماغ، اعصابی نظام، دل، پھیپھڑوں اور گردوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیسہ ایک نیورو ٹوکسن ہے جس کی بہت کم مقدار بھی ذہانت میں کمی، متوجہ ہونے کے وقت میں کمی اور زندگی میں آگے چل کر پرتشدد اور مجرمانہ رویے کا باعث ہو سکتی ہے۔رحمِ مادر سے لے کر پانچ برس کے بچوں کو زندگی بھر کے لیے دماغی امراض اور جسمانی معذوریوں اور یہاں تک کے ہلاک ہونے کا زیادہ خطرہ ہے۔سیسے کے زہر سے متاثر دوسرا بڑا خطہ افریقہ ہے جہاں نائجیریا سب سے زیادہ متاثر ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انڈیا پہلے نمبر پر جبکہ نائجیریا، پاکستان اور بنگلہ دیش دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایسی بیٹریوں کی ری سائیکلنگ جن میں سیسے کا تیزاب استعمال ہوتا ہے

سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ جبکہ ای ویسٹ یعنی استعمال شدہ الیکٹرانک اشیا بعض مصالحے جن میں نقصان دہ اشیا شامل کی جاتی ہیں، عمارتوں پر کیے جانے والے رنگ اور بعض کھلونے بھی وہ ذرائع ہیں جو سیسے کے زہریلے اثرات پھیلانے کا سبب ہیں۔رپورٹ کے مصنفین میں سے ایک نیکولس ریس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 2000 سے اب تک ترقی پزیر اور غریب ممالک میں گاڑیوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے

جس کی وجہ سے لیڈ ایسڈ بیٹریوں کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کا کام بھی بہت بڑھا ہے۔ ایسا اکثر غیر محفوظ طریقے سے کیا جاتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں تیار ہونے والے سیسے کا 85 فیصد بیٹریاں بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے جن میں سے زیادہ تر گاڑیوں کی دوبارہ استعمال شدہ بیٹریوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔یونیسف کے مطابق پاکستان میں چار کروڑ دس لاکھ بچوں کے خون میں سیسے کی سطح پانچ مائکرو گرام فی

ڈیسی لیٹر سے زیادہ ہے۔ جبکہ عالمی ادارہ صحت کے معیار کے مطابق یہ تشویشناک سطح ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانچ سال سے کم عمر زیادہ خطرے میں ہیں کیونکہ ان کے دماغوں کو پوری طرح نشو نما پانے سے پہلے ہی اتنا نقصان پہنچ سکتا ہے کہ وہ تمام عمر کے لیے ذہنی معذوریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جسم کے وزن کے تناسب سے بچے بڑوں کے مقابلے میں خوراک، مائع اور ہوا کا استعمال پانچ گنا زیادہ کرتے ہیں۔نیکولس ریس کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ وہ اس زھر کو بھی زیادہ استعمال کر سکتے ہیں اگر یہ مٹی اور ہوا میں شامل ہے اور ایسی جگہ پر موجود ہے جہاں بچے بھی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں کے سیسے سے متاثر ہونے کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس کی علامات عموماً بڑے ہونے تک سامنے نہیں آتیں۔ڈاکٹر مہدی کا کہنا ہے کہ اس بارے میں آگہی کا فقدان بھی ایک مسئلہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…