منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

پشاور میں توہین رسالت کے ملزم کو عدالت میں جج کے سامنے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا

datetime 29  جولائی  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پشاور میں توہین رسالت کے مقدمے میں ملزم کو عدالت میں جج کے سامنے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ۔ پولیس کے مطابق ملزم طاہر احمد نسیم کو عدالت میں مقدمے کی سماعت کے لیے لے جایا گیا تھا جہاں ایک شخص عدالت میں داخل ہوا اور ان پر فائرنگ کر دی۔ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بی بی سی کے مطابق ملزم طاہر احمد نسیم پشاور کے رہائشی تھے اور گذشتہ کچھ عرصے سے توہین رسالت کے ایک مقدمے میں جیل میں تھے۔پولیس کے مطابق جب طاہر احمد کو جیل سے عدالت میں پیش کرنے کے لیے لایا گیا تو وہاں موجود لوگوں کے مطابق اس دوران خالد نامی شخص آیا اور طاہر احمد سے بحث کی جس کے بعد خالد نے کمرۂ عدالت میں طاہر احمد پر فائرنگ کر دی جس سے وہ ہلاک ہو گئے۔پولیس کے مطابق طاہر احمد نسیم کے خلاف 25 اپریل 2018 کو تھانہ سربند میں تعزیرِات پاکستان کی دفعات کے تحت توہین رسالت اور توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔طاہر احمد کے خلاف درج ایف آئی آر کے مطابق تھانہ سربند کو نوشہرہ کے رہائشی اور اسلام آباد کے ایک مدرسے میں زیر تعلیم طالبعلم کی جانب سے درخواست ملی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ طاہر احمد نسیم توہین رسالت کا مرتکب ہوا ہے اور اس بارے میں یو ایس بی میں تفصیلات بھی فراہم کی گئی تھیں۔پولیس کو دی گئی تحریری درخواست میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ طالبعلم کی طاہر احمد کے ساتھ بات چیت فیس بک پر شروع ہوئی اور پھر ان کی ملاقات پشاور میں ہوئی جہاں طاہر احمد نے ایسی باتیں کی جو توہین رسالت کے زمرے میں آتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…