جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

جرمنی مسلسل  تیسرے برس بھی پسندیدہ ترین ممالک میں شامل امریکی لیڈر شپ کیلئے ناپسندیدگی یورپی ممالک میں سب سے زیادہ ریکارڈ

datetime 28  جولائی  2020 |

برلن (این این آئی)رائے عامہ کے عالمی جائزے کے مطابق سال 2019ء  میں بھی جرمنی نے نہ صرف پسندیدہ ترین ملک کا اعزاز برقرار رکھا بلکہ امریکا، روس اور چین اس دوڑ میں مزید پیچھے رہ گئے۔گیلپ کی طرف سے کرائے جانے والے گلوبل لیڈرشپ پول کے مطابق سال 2019ء  میں جرمنی کے لیے عالمی حمایت میں مزید اضافہ ہوا تو دوسری طرف امریکا کا تاثر خراب ہوا۔44

فیصد اپروول ریٹنگ یا پسندیدگی کے درجے کے ساتھ جرمنی اس فہرست میں سب سے آگے ہے۔ امریکا جرمنی سے 11 پوائنٹ پیچھے ہے اور بطور عالمی لیڈر امریکا کے بارے میں سب سے زیادہ ناپسندیدگی یورپ میں دیکھی گئی۔    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2015ء  میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے مہاجرین کے لیے سرحدیں کھولنے کے فیصلے کو ایک بہت بڑی غلطی سے تعبیر کیا تھا۔ وہ جرمنی کی پالیسیوں پر تنقید بھی کرتے رہے ہیں اور کبھی ان حق میں بیان بھی دیتے رہے ہیں۔گیلپ کی طرف سے یہ سروے کورونا وبا شروع ہونے سے قبل کرایا گیا تھا اور چونکہ اس وباء سے نمٹنے میں امریکا بْری طرح ناکام رہا ہے اس لیے اس بات کا قوی امکان ہے کہ عالمی سطح پر امریکا کے بارے میں ناپسندیدگی مزید بڑھ گئی ہو۔سابق صدر باراک اوباما کے دور میں امریکا کا تاثر کافی بہتر ہوا تھا سوائے 2011ء  کے جب وہ ریٹنگ میں جرمنی سے کچھ پیچھے رہ گیا تھا۔ تاہم جب ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارت سنبھالی تو امریکا کی  اپروول ریٹنگ ایک دم سے گر گئی اور 18 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ یہ اپنی کم ترین سطح 30 فیصد تک پہنچ گئی۔135 ممالک میں امریکا کے لیے اپروول ریٹنگ سال 2019ء میں تھوڑی بہتری کے ساتھ 33 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔  قبل ازیں امریک صدر جارج بش کے دور میں سال 2008ء  میں امریکا کی یہ ریٹنگ 34 فیصد پر آ گئی تھی۔امریکی لیڈر شپ کے لیے ناپسندیدگی یورپی ممالک میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی جہاں سروے میں شامل 61 فیصد لوگوں نے موجودہ امریکی انتظامیہ کے لیے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ محض تین یورپی ممالک ایسے ہیں جہاں امریکا کے لیے پسندیدگی کا درجہ زیادہ رہا۔ ان میں کوسوو، البانیا اور پولینڈ ہیں۔آسٹریلیوی شہریوں میں 67 فیصد نے امریکا کے لیے نامنظوری یا استرداد کا اظہار کیا۔افریقہ میں تاہم امریکا کے لیے پسندیدگی کا درجہ کسی حد تک بہتر ہے جہاں 52 فیصد لوگوں نے واشنگٹن کے لیے مثبت رائے دی۔ مگر یہ 2009ء  کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔ باراک اوباما کے دور صدارت میں 85 فیصد افریقیوں نے امریکا کے لیے اچھی رائیکا اظہار کیا تھا۔چین اور روس امریکا کے بعد بتدریج تیسرے اور چوتھے نمبر پر رہے۔ اس سروے میں چین کے لیے 32 فیصد افراد نے بطور عالمی لیڈر اپنی حمایت کا اظہار کیا جبکہ روس کے لیے 30 فیصد لوگوں نے۔ 2018ء  میں چین 34 فیصد اپروول کے ساتھ امریکا کے مقابلے میں تھوڑا آگے تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…