بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

بلوچستان میں گرنے والے شہاب ثاقب مبینہ طور پر افغانستان کے راستے بیرون ملک سمگل، اب یہ شہاب ثاقب کس ملک میں ہیں اور کس یونیورسٹی میں تحقیق جاری ہے؟اہم انکشافات

datetime 28  جولائی  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کم آبادی اور دیگر علاقوں کے مقابلے میں کم آلودگی کے باعث بلوچستان کا شمار فلکیاتی مشاہدات کے ليے بہترین مقامات میں ہوتا ہے۔ ژوب کی تحصیل قمر الدین کاریز سے تعلق رکھنے والے سردار نور محمد کے مطابق رواں سال نو جنوری کی شام کوئٹہ سے تقريباً 315 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ژوب ڈویژن کی یونین کونسل حسن زئی ميں چند مزدور گھروں کو لوٹ رہے تھے کہ ان سے کچھ فاصلے پر شہابِ ثاقب آ گرے۔

ان میں سے سب سے بڑے پتھر کا وزن تقریباً 18.9 کلوگرام تھا۔ اس کے گرد و نواح میں گرنے والے چھوٹے پتھروں کی تعداد بھی کافی زیادہ تھی۔ مزدوروں نے انہيں جمع کر لیا۔ کچھ دن بعد کوئٹہ سے کچھ افراد نے مبينہ طور پر اس علاقے کا دورہ کیا اور بڑے پتھر سمیت تمام پتھر یہ کہہ کر لے گئے کہ انہیں اسلام آباد کے ایک تحقیقی ادارے میں تجزیے کے ليے بھیجا جائے گا۔ مگر انہیں متصل افغانی سرحد کے راستے تقریباً چار لاکھ روپوں میں سمگل کر دیا گیا۔ اس پيش رفت سے ذرائع ابلاغ لا علم رہا۔ چونکہ اس علاقے کے لوگ زیادہ خواندہ نہیں ہیں لہذا وہ اس پتھر کی اہمیت سے واقف ہی نہیں تھے۔یہ واقعہ اس وقت انٹرنیشنل میڈیا میں آیا جب امریکا کی ايريزونا اسٹیٹ یونیورسٹی نے اس پتھر پر تحقیق کر کے اس سے متعلق اہم معلومات جاری کیں، جہاں اسے ‘ژوب میٹیورائٹ‘ کا نام دیا گیا۔پاکستان میں سائنسی لکھاری شاہ زیب صدیقی کے مطابق انہیں انٹرنیشنل میڈیا ہی کے ذریعے اس شہابِ ثاقب کے بارے میں معلوم ہوا، تو انہیں شدید حیرت ہوئی کہ اتنا وزنی پتھر گرا اور میڈیا اس سے بے خبر رہا۔ میں نے اس پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ پتھر کی افغانستان کے راستے اسمگلنگ کے بعد اسے مائیکل فارمر نامی ایک بین الاقوامی جیمز ایکسپرٹ نے خرید کر ٹکسن جیمز اینڈ منرل شو میں پیش کیا، جہاں سے ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی امریکا نے اسے تحقیقی مقاصد کے ليے خریدا اور تب ہی یہ شہاب ثاقب دنیا کی نظروں میں آ سکا۔

نوجوان سائنسدان شہیر نیازی، جنہیں سن 2019 میں فوربس میگزین نے دنیا بھر کے انڈر 30 متاثر کن نوجوانوں کی فہرست میں شامل کیا تھا، ان شہاب ثاقب کی پاکستان واپسی کے ليے مہم چلا رہے ہیں۔ شہیر کے مطابق انہوں نے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ژوب میٹیورائٹ کی پاکستان سے غیر قانو نی اسمگلنگ کو ہائی لائٹ کیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی توجہ بھی ایک ٹویٹ کے ذریعے اس واقعے کی طرف مبذو ل کرائی جس پر فواد چوہدری نے کہا کہ وہ بلوچستان کی حکومت سے اس پر معلومات لیں گے۔لیکن ابھی تک کوئی عملی پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…