ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

’’لوگ کہہ رہے تھے وہ ابھی سانس لے رہا اسے بچایا جا سکتا ہے ‘‘ 5 روپے کی رسید نہ بنوانے پر مریض ہسپتال کے دروازے پر دم توڑ گیا

datetime 26  جولائی  2020 |

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کے سرکاری اسپتال میں 5 روپے کی رسید نہ بنوانے والا مریض اسپتال کے دروازے پر دم توڑ گیا۔گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے سرکاری اسپتال میں مریض کی اہلیہ 5 روپے کی رسید بنوانے کے لیے کھلے

پیسے لینے کے لیے ماری ماری پھرتی رہی اور شوہر نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔ہلاک ہونے والے مریض کی شناخت سنیل راجک کے نام سے ہوئی، افسوسناک واقعہ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع گونا میں پیش آیا۔اہلیہ کے مطابق شوہر کے مرنے کے بعد بھی کوئی مدد کو نہ آیا اور درخواستوں پر کان نہ دھرے، ایک گھنٹہ سے زیادہ کا وقت گزرنے کے بعد آخر کار ایک شخص نے ان کی مدد کی۔آرتی کے مطابق راجک 22 جولائی کو بیمار تھے اور اسپتال میں داخلے کے لیے رسید لینے گئی لیکن میرے پاس کھلے پیسے نہیں تھی اور میں کھلے پیسے لینے گئی اور راجک کو نیچے چھوڑ دیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ’اسپتال کے کاؤنٹر پر گئی تو کہا گیا کہ پرچی کے پیسوں کی ادائیگی کرنی ہوگی، لوگ کہہ رہے تھے کہ وہ ابھی بھی سانس لے رہا ہے اسے بچایا جاسکتا ہے لیکن کوئی بھی مدد کرنے نہیں آیا۔ مرنے کے بعد بھی کسی نے نہ سنی اور ایک گھنٹے تک شوہر کی لاش کے پاس بیٹھ کر اپیل کرتی رہی۔ریاست کے سابق وزیراعلیٰ نے واقعے پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ملوث اسپتال عملے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی صارفین کی جانب سے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…