منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

اسلام آباد ہائی کورٹ کا پاکستان نیوی سیلنگ کلب کو فوری سیل کرنے کا حکم

datetime 23  جولائی  2020 |

اسلام آباد( آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ نے راول ڈیم کے کنارے کمرشل بلڈنگ سیل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔عدالت نے سی ڈی اے کے بورڈ ممبران سے حلف نامے طلب کر لئے ہیں۔جمعرات کے روز چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پاکستان نیوی سیلنگ کلب کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

ممبر بورڈ سی ڈی اے نے ایک رپورٹ عدالت میں جمع کروائی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ وزیراعظم نے راول جھیل کے قریب تعمیرات کی اجازت دی تھی جس پر چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ میں جو آپ سے پوچھ رہا ہوں اسکا جواب دیں، زمین کا الاٹمنٹ لیٹر کہاں ہے؟بورڈ سی ڈی اے نے عدالت کے سامنے اعتراف کیا کہ زمین کا الاٹمنٹ لیٹر نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پھر سی ڈی اے نے کیا کارروائی کی؟ممبر بورڈ سی ڈی اے نے بتایا کہ ہم نے نوٹسز دیئے ہوئے ہیں، چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے پھر استفسار کیا کہ بتائیں سیلنگ کلب کی عمارت قانونی ہے یا غیرقانونی؟ہائی کورٹ نے راول ڈیم کے کنارے کمرشل بلڈنگ سیل کرنے کا حکم دے دیا ہے اور سی ڈی اے بورڈ ممبران سے حلف نامے بھی طلب کر لیے ہیں۔عدالت کا کہناتھا کہ کیوں نہ مبینہ غفلت پر سی ڈی اے کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کی جائے ، کس اتھارٹی کے تحت پاکستانی نیوی کمرشل پروجیکٹ چلارہی ہے ، آئندہ سماعت پر مطمئن کیا جائے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری داخلہ ، سی ڈی اے کے ذریعے نیوی کلب کو سیل کروائیں،آئندہ سماعت پر کلب سیل نہ کیا گیا تو سیکرٹری کابینہ عدالت میں پیش ہوں ،عدالت نے پاکستان نیوی کلب کا معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھنے کا بھی حکم جاری کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…