منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

چند منٹوں میں کووڈ 19 کی تشخیص  کرنے والا بلڈ ٹیسٹ تیار

datetime 20  جولائی  2020 |

کینبرا (این این آئی )آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے دعوی کیا ہے کہ وہ خون کے نمونوں سے صرف 20 منٹ میں کورونا وائرس کے مثبت ہونے کی تصدیق کرنے کے قابل ہوگئے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق موناش یونیورسٹی کے ماہرین نے یہ بلڈ ٹیسٹ تیار کیا اور انہیں توقع ہے کہ اس دریافت سے عالمی سطح مقامی طور پر کووڈ 19 کے پھیلا کو محدود کرنے میں مدد مل سکے گی۔ان کا کہنا تھا کہ

وہ خون کے نمونوں سے 20 مائیکرو لیٹرز پلازما سے کووڈ 19 کے حالیہ کیسز کی تشخیص کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔اس تحقیق میں بایو پیرا اور مونا یونیورسٹی کے کیمیکل انجنیئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے ماہرین نے اکٹھے کام کیا اور ایک ایسا سادہ خون کا ٹیسٹ تیار کیا جو خون میں کورونا وائرس کی بیماری کے ردعمل میں بننے والی اینٹی باڈیز کی موجودگی کی شناخت کرسکتا ہے۔محققین نے بتایا تھا کہ کورونا وائرس کے نتیجے میں جسم میں خون کے سرخ خلیات کا ایک اجتماع بن جاتا ہے جو کہ برہنہ آنکھ سے بھی دیکھا جاسکتا ہے جبکہ محققین 20 منٹ میں مثبت یا نیگیٹو نتیجہ بتاسکتے ہیں۔اس وقت پی سی آر ٹیسٹ کے ذریعے لوگوں میں کورونا وائرس کی تشخیص کی جاتی ہے مگر آسٹریلین محققین کا کہنا تھا کہ خون کے ٹیسٹ سے یہ بھی تعین کیا جاسکے گا کہ کوئی حال ہی میں کووڈ 19 کا شکار رہ کر صحتیاب ہوچکا ہے اور ممکنہ طور پر کلینیکل ٹرائلز میں ویکسینیشن کے عمل سے گزرنے والے افراد میں اینٹی باڈیز کی سطح کو جانچنے کے لیے بھی استعمال ہوسکے گا۔محققین کا کہنا تھا کہ ایک سادہ لیبارٹری سیٹ اپ کے ذریعے دنیا بھر میں طبی عملے کے افراد ایک گھنٹے میں 200 خون کے نمونوں کا ٹیسٹ کرسکیں گے، جبکہ جدید ترین آلات سے لیس ہسپتالوں میں ہر گھنٹے 700 سے زائد خون کے نمونوں کی تشخیص ہوسکے گی، جو دن بھر میں لگ بھگ 17 ہزار بن سکتی ہے۔اس تحقیقی کام کے نتائج جریدے جرنل اے سی ایس سینسرز میں شائع ہوئے اور نتائج سے کورونا وائرس کے

زیادہ خطرے کا سامنا کرنے والے ممالک کو آبادی کی اسکریننگ، کیسز کی تشخیص، اور کلینیکل ٹرائلز کے دوران ویکسین کی افادیت کے بارے میں جاننے میں مدد مل سکے گی۔محققین کا کہنا تھا کہ نتائج دنیا بھر کی حکومتوں اور طبی ٹیموں کو پرجو کردینے والے ہیں جو کووڈ 19 کے پھیلا کو روکنے کے لیے سرگرم ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس مشق سے اینٹی باڈیز ٹیسٹنگ کی شرح بڑھانے کے

مواقع بھی بڑھ سکتے ہیں۔تحقیق کے دوران لوگوں کے پلازما یا خون کے سرخ خلیات کے سیرم کو دیکھا گیا تھا اور مختلف تجربات کے ذریعے کامیابی حاصل کی گئی۔محقققین کا کہنا تھا کہ اس سادہ، فوری اور آسان طریقہ کار سے کورونا وائرس کے اینٹی باڈیز ٹیسٹنگ کے لیے بہترین ہے جبکہ یہ کووڈ 19 کی وبا کے بعد بھی ایک کارآمد ٹول ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…