بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

قطر ہسپتال کے دورے کے دوران وزیراعلیٰ سندھ کی زبان کئی بار لڑکھڑا گئی

datetime 29  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اسمبلی اجلاسوں کے دوران نیند پوری کرنے کی بات ہو یا چلتے پھرتے لڑکھڑانے کے واقعات ہمارے ذہنوں میں فوراً وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا نام آتا ہے جب کہ اس بار قائم علی شاہ کا تو شاید گرمی سے دماغ ہی چکرا گیا اور وہ حکومتی اعدادو شمار بھی غلط بیان کرتے رہے۔کراچی میں قطر ہسپتال کے دورے کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کی زبان کئی بار لڑکھڑائی اور پیچھے کھڑے وزرا انہیں بار بار لقمے دے کر ان کی تصحیح کرتے رہے۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ قطر ہسپتال میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی جب کہ اسپتال کے اعدادوشمار کے مطابق قطر ہسپتال میں ہیٹ اسٹروک سے 45 افراد جاں بحق ہوئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہیٹ اسٹروک کے باعث شہر کے مختلف ہسپتالوں میں 1100 افراد کو طبی سہولیات فراہم کی گئیں، پیچھے کھڑے وزیر صحت جام مہتاب ڈہر نے فوراً ٹوکا اور بتایا کہ 11 ہزار کے قریب افراد کو طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔قائم علی شاہ کے کیا کہنے کہ انھوں نے پہلے کراچی کی آبادی 20 لاکھ بتائی اور پھر 20 کروڑ، تیسری بار اللہ اللہ کر کے کراچی کی صحیح آبادی سائیں سرکار کی زبان پر آہی گئی اور انھوں نے شہر کی صحیح آبادی 2 کروڑ بتائی۔ بات صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ ایک جگہ تو قائم علی شاہ نے غریب کو مریض کہہ ڈالا اور پھر خود ہی تصحیح کرتے نظر آئے۔یہ تو کمالات تھے وزیراعلیٰ سندھ کے لیکن قائم علی شاہ کی طرح ان کی سندھ سرکار بھی ان سے کسی صورت پیچھے نہیں۔ حکومت سندھ کی جانب سے گرمی سے بچاو¿ کے لئے نماز استسقاء پڑھنے کے لئے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی جس میں نماز استسقائ کی جگہ ’نماز استثنائ ‘ کا لفط لکھ دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…