منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

عمران خان کاپٹرولیم اور گیس کا ذخیرہ ملنے کا اعلان لیکن کنویں کی کھدائی کے دوران کیا ملا؟ حکومتی دعوئوں کی قلعی کھل گئی، خود ہی اعتراف کرلیا،122 ملین ڈالر سے زائد ضائع

datetime 17  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے وقفہ سوالات کے دور ان سوالات موخر کر نے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ وزار توں کی پرفارمنس یہاں سے ظاہر ہوتی ہے ،وزیراعظم نے کہا تھا سمندر سے پٹرولیم اور گیس کا بڑا ذخیرہ مل گیا ہے ۔

جبکہ وزیر توانائی عمر ایوب نے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیکڑا ون ایگزون موبائل، او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل نے مشترکہ طور پر شروع کیا ، منصوبے پر حکومت کا کوئی خرچہ نہیں ہوا،مذکورہ کنواں 5693 میٹر کھودا گیا ،وہاں تیل و گیس کی تلاش میں کامیابی نہ مل سکی،کھدائی سے پتہ چلا یہاں پر تیل و گیس کا پریشر نہیں بلکہ یہاں پانی کا ذخیرہ ہے۔ پینل آف چیئر امجد خان نیازی کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ وزارتوں کی طرف سے تحریری جواب تو آنا چاہیے،ضمنی سوال تو بعد میں کیا جائیگا،اب یہاں پر چار سوالات موخر کیے گئے ہیں،وزارتوں کی پرفارمنس یہاں سے ظاہر ہوتی ہے۔ سابق وزیر اعظم نے کہاکہ وزیراعظم نے کہا تھا سمندر سے پیٹرولیم اور گیس کا بڑا ذخیرہ مل گیا ہے۔پارلیمانی سیکرٹری توانائی نے کہاکہ امکان تھا مگر کامیابی نہیں ملی۔وقفہ سوالات کے دور ا ن بتایاگیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی میں 29 سال کی کم ترین سطح پر آگئی تھی۔ جماعت اسلامی کے مولانا اکبر چتراتی نے کہاکہ اگرچہ پاکستان میں بھی قیمتوں میں کمی کی گئی تاہم اس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچا۔مولانااکبر چترالی نے کہاکہ عوام کو تو اس دوران کہیں پر بھی پٹرول نہیں مل رہا تھا ۔

مولانااکبر چترالی نے کہاکہ کیا حکومت نے کسی کو اس کا زمہ دار ٹھہرایا گیا۔مولانااکبر چترالی نے کہاکہ کیا حکومت نے کسی کے خلاف کارروائی کی۔وزیر توانائی عمر ایوب نے کہاکہ کیکڑا ون ایگزون موبائل، او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل نے مشترکہ طور پر شروع کیا ،اس منصوبے پر حکومت کا کوئی خرچہ نہیں ہوا۔ انہوںنے کہاکہ مذکورہ کنواں 5693 میٹر کھودا گیا مگر وہاں تیل و گیس کی تلاش میں کامیابی نہ مل سکی،اس کنویں کی کھدائی سے پتہ چلا یہاں پر تیل و گیس کا پریشر نہیں بلکہ یہاں پانی کا ذخیرہ ہے۔ انہوںنے بتایاکہ اس کنویں کی کھدائی پر کل 122 ملین ڈالر سے زائد رقم خرچ ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…