بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

پی آئی اے کو عمانی فضائی حدود کی بندش کا بھی خطرہ

datetime 14  جولائی  2020 |

لاہور( این این آئی )گزشتہ ماہ سے پاکستان ایوی ایشن ریگولیٹر اور قومی ایئرلائن اپنی ساکھ کو متاثر کرنے والے بحران سے دوچار ہے  اور اب پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی پروازوں کو عمان کی فضائی حدود کی بندش کا خطرہ درپیش ہے۔تاہم سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے

عمانی ایوی ایشن حکام کو یقین دلایا گیا ہے کہ فلائٹ سیفٹی یقینی بنانے کے لیے تمام پائلٹس کی اسناد کی جانچ پڑتال کی گئی ہے۔میڈیا رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پی آئی اے کی سیفٹی کے حالیہ معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عمانی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ پی آئی اے کو اس کی فضائی حدود کے استعمال سے روکا جاسکتا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ عمانی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ یہ بتائیں کہ پروازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔اس حوالے سے ذرائع نے مزید کہا کہ پاکستان سی اے اے نے عمانی سول ایوی ایشن اتھارٹی کو بتایا کہ جن پائلٹس کو پرواز کرنے کی اجازت دی گئی تھی ان سب کی اسناد کی جانچ اجازت دینے سے قبل کی جاچکی تھی۔اگرچہ عمانی سی اے اے نے سرکاری طور پر وہاں موجود پاکستانی پائلٹس کی تصدیق کے لیے کوئی مخصوص فہرست نہیں ارسال کی لیکن حکام نے صرف پاکستان سے یہ وضاحت طلب کی ہے کہ پروازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں تاکہ پی آئی اے کو عمان کی فضائی حدود کے استعمال سے نہ روکا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…