ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

رافیل اور ایف 36کا توڑ،چین نے جے 31لڑاکا طیارہ تیار کر لیا،امریکہ اور فرانس اور بھارت کو کرارا جواب، طیارہ(ففتھ جنریشن) کے لڑاکا طیارے قرار پاکستان کے پاس بھی پانچویں نسل کالڑاکا طیارہ ہونا ضروری قرار، بڑی خوشخبری

datetime 7  جولائی  2020 |

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک)چینی اور امریکی میڈیا کی تازہ خبروں کے مطابق، چین کا جدید ترین لڑاکا طیارہ ’’جے 31‘‘ اگلے سال سے پروازیں شروع کردے گا اور ممکنہ طور 2025 سے پہلے ہی اس کی پیداوار بھی شروع کردی جائے گی۔قومی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق یہ خبریں پاکستان کیلئے کسی نیک شگون سے کم نہیں کیونکہ ’’جے 31‘‘ جسے بیک وقت امریکی ایف 35 اور

فرانسیسی رافیل کا چینی جواب قرار دیا جا رہا ہے، متوقع طور پر پاک فضائیہ کے استعمال میں بھی آسکتا ہے اور پاکستان کی فضائی طاقت کو مزید مستحکم کر سکتا ہے۔ یہ لڑاکا طیارہ چین کی بڑی کامیابی ہے اور چین کے ’’ایف سی 31‘‘ منصوبے کی پیداوار ہے جسے پانچویں نسل کا (ففتھ جنریشن) لڑاکا طیارہ بھی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے علاوہ کئی طرح کی جدید ترین ٹیکنالوجیز سے لیس ہوگا۔ امریکی ویب سائٹ ’’پاپولر مکینکس‘‘ پر اس بارے میں شائع شدہ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ ’’جے 31‘‘ ممکنہ طور پر اب تک کے تمام چینی لڑاکا طیاروں کے مقابلے میں جدید ترین اور ’’تکنیکی طور پر‘‘ بالکل نیا اور منفرد ہوگا۔ اس کے پہلے پروٹوٹائپ نے 2012 میں اوّلین آزمائشی پرواز کی تھی۔ اگرچہ اس منصوبے کی مجموعی لاگت اب تک نامعلوم ہے لیکن اتنا ضرور معلوم ہوا ہے کہ ایسے ایک طیارے کی قیمت 70 ملین (7 کروڑ) امریکی ڈالر کے لگ بھگ ہوگی۔ اس کے مقابلے میں امریکی ایف 35 کے ایک طیارے کی قیمت 7 کروڑ 90 لاکھ امریکی ڈالر، جبکہ فرانسیسی رافیل لڑاکا طیارے کی کم سے کم قیمت 7 کروڑ 70 لاکھ امریکی ڈالر کے مساوی بتائی جا رہی ہے۔ لڑاکا طیاروں کی عالمی منڈی پر نظر رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ اسے چین کے طیارہ بردار بحری بیڑے میں شمولیت کے قابل بنایا جا رہا ہے۔ دیگر تکنیکی تفصیلات کی روشنی میں ماہرین کا یہ بھی اندازہ ہے کہ ’’جے 31‘‘ کو ممکنہ طور پر دیگر ممالک کو فروخت بھی کیا جائے گا

کیونکہ یہ مہنگے امریکی اور یورپی لڑاکا طیاروں کے مقابلے میں ’’خاصا کم خرچ‘‘ ہے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے فرانسیسی رافیل کی خریداری کے تناظر میں، اور خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کیلئے، پاکستان کے پاس بھی پانچویں نسل کا ایک ایسا لڑاکا طیارہ ہونا ضروری ہوگا جو رافیل کا مؤثر جواب بن سکے۔ ’’جے 31‘‘ اس ضمن میں بہترین

امیدوار ہو سکتا ہے۔ لڑاکا طیاروں کے بعض ماہرین کا یہاں تک کہنا ہے کہ ’’جے 31‘‘ کا ڈیزائن امریکی ’’ایف 22 ریپٹر‘‘ سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے، جسے دنیا کا خطرناک ترین لڑاکا طیارہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پیداواری مرحلے پر پہنچنے کے بعد ’’جے 31‘‘ اپنی صلاحیتوں میں امریکی ایف 22 کے بھی مدمقابل آجائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…