منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

امریکا کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن کی زبان پھر پھسل گئی

datetime 5  جولائی  2020 |

واشنگٹن(این این آئی )امریکا کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن کی زبان پھر پھسل گئی، سابق نائب صدر خود کو جِل بائیڈن کا شوہر کہنے کے بجائے جوبائیڈن کا شوہر کہہ بیٹھے، تاہم منہ سے الفاظ غلط ادا ہونے کے باوجود صدرٹرمپ کے مقابلے میں انکی مقبولیت اب بھی زیادہ ہے۔امریکی میڈیارپورٹس کے مطابق 77برس کے جوبائیڈن نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر تقریب میں شرکت کی ،

اسے نیشنل ایجوکیشن ایسوسی ایشن نے منعقد کیا تھا، تقریب کی میزبان نے بائیڈن کا تعارف کراتے ہوئے شرکا ء کو بتایا کہ جل بائیڈن خود بھی اسی ایسوسی ایشن کی رکن رہی ہیں۔بائیڈن اسکرین پر آئے تو اپنی بیوی کا نام لے کر یہ کہنے کی بجائے کہ وہ جل بائیڈن کے شوہر ہیں، یہ کہہ دیا کہ وہ جو بائیڈن کے شوہر ہیں، انہیں زبان پھسلنے کا احساس تک نہ ہوا اورغلطی درست نہ کی۔ صدر ٹرمپ کی مقبولیت اڑتیس جبکہ بائیڈن کی مقبولیت 50 فیصد ہے۔واضح رہے کہ مارچ میں بھی بائیڈن کی زبان اس وقت پھسل گئی تھی جب وہ امریکا کے اعلان آزادی پربات کررہے تھے۔مئی میں ایک اورتقریب سے خطاب میں بھی وہ سچائی اور حقیقت کے معنوں میں تفریق نہ کرسکے تھے۔جوبائیڈن کی انہی غلطیوں کی وجہ سے صدرٹرمپ انہیں نیند میں دھت شخص کہہ کر پکارتے رہے ہیں، ری پبلکنزان کیخلاف اشتہاربھی جاری کرچکے ہیں۔صدرٹرمپ نے پچھلے ہفتے ہی کہا تھا کہ جوبائیڈن کو اپنا ٹیسٹ کرالینا چاہیے، لیکن یہ طے ہے کہ وہ پاس ہوں گے نہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…