ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

گھر والے کورونا مریض کی لاش ڈیپ فریزر میں رکھنے پرکیوں مجبور ہو گئے؟ سرد خانے والوں کا بھی لاش رکھنے سے انکار، انتہائی افسوسناک انکشافات

datetime 2  جولائی  2020 |

نئی دہلی (آن لائن) بھارت میں ڈاکٹر کی جانب سے موت کا سرٹیفیکیٹ دینے سے انکار پر گھر والے کورونا مریض کی لاش دو دن تک ڈیپ فریزر میں رکھنے پر مجبور ہو گئے۔ ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی شہر کولکتہ میں 71 سالہ کورونا وائرس کا مریض گھر میں ہی دم توڑ گیا، مریض کے لواحقین کو اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب ڈاکٹر کی جانب سے کورونا وائرس ٹیسٹ کا رزلٹ آنے تک ڈیتھ سرٹیفیکیٹ دینے سے

انکار کر دیا گیا، ڈیتھ سرٹیفیکیٹ کے نہ ہونے پر سرد خانے والوں نے بھی لاش رکھنے سے انکار کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق مریض کے گھر والوں پر شہری حکوت کی جانب سے دباؤ ڈالا گیا۔ کہ وہ اپنے مریض کی لاش محفوظ رکھنے کے لیے ایک ڈیپ فریزر کا انتظام کریں اور اْس میں اپنے مریض کی لاش کو کورونا ٹیسٹ کے نتائج آنے تک رکھیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی محکمہ صحت، شہری حکام، پولیس اور سیاستدانوں کی جانب سے کوئی مدد نہ ملنے پر گھر والے اپنے مریض کی لاش گھر لے آئے اور ڈیپ فریزر میں رکھ دی، اس واقعے کے دو دن بعد مریض کا کورونا ٹیسٹ کے نتیجہ مثبت آ گیا۔71 سالہ کورونا مریض کی موت واقع ہونے کے 48 گھنٹوں بعد اور کورونا ٹیسٹ کے نتیجہ آنے پر شہری حکومت کی جانب سے لاش کو گھر سے لے جایا گیا اور پوری بلڈنگ کو ڈس انفیکٹ بھی کیا گیا۔بھارتی رپورٹ کے مطابق کورونا مریض کو گزشتہ پیر سانس میں دشواری کی شکایت پر اسپتال لے جایا گیا تھا جہاں ڈاکٹر کی جانب سے کورونا ٹیسٹ کروانے کا کہا گیا، کورونا ٹیسٹ کروانے کے بعد مریض کے گھر پہنچنے پر طبیعت زیادہ بگڑ گئی اور وہ چل بسا۔لواحقین کے مطابق مریض کے مرنے پر ڈاکٹر نے گھر آ کر مریض کا چیک اپ کیا مگر ڈیتھ سرٹیفیکیٹ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ کورونا وائرس کا معاملہ ہے اس لیے پولیس سیرابطہ کیا جائے۔لواحقین کے مطابق انہوں نے پولیس اور محکمہ صحت سے رابطہ کرنے کی

بہت کوشش کی مگر اْنہیں کہیں سے بھی موثرجواب نہیں ملا، سرد خانے والوں نے بھی کورونا مریض کا سن کر مدد سے انکار کر دیا اور اور دوبارہ رابطہ کرنے پر فون بھی نہیں اٹھایا۔گھر والوں کا کہنا ہے کہ ان سب حالات کے بعد انہوں نے مریض کی لاش کو ڈیپ فریزر میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے لواحقین کا بتانا تھا کہ ٹیسٹ رپوٹ آجانے پر بھی انہوں نے محکمہ صحت سے رابطہ کیا مگر انہیں کسی قسم کا کوئی جواب نہیں ملا، بدھ کی صبح محکمہ صحت نے خود رابطہ کیا اور بتایا کہ لاش گھر سے لے جانے کی کارروائی پر کام جاری ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق کولکتہ میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کی جانب سے بدھ کی دوپہر کو اپارٹمنٹ سے لاش نکالی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…